درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 157 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 157

۱۵۷ ذرہ اور خاک مشبہ اور خورشید اور مہ تاباں مشبہ بہ ہیں۔دونوں جگہ چوں حرف تشبیہ ہے اور وجہ شبہ چمک اور روشنی ہے جو سورج اور چاند میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔بعض دفعہ حرف تشبیہ کو حذف بھی کر دیتے ہیں۔اور یہ دو طرح ہوتا ہے۔اول یہ کہ مشتبہ کو مشتبہ یہ قرار دیا جائے۔اور دونوں مذکور ہوں۔جیسے۔هست فرقان مبارک از خدا طیب شجر به نونهال و نیک پودرشت یه دار و پر زیدیه ور ثمین ص) یہاں فرقان مشتبہ ہے اور شجر مشتبہ یہ اور دونوں مذکور ہیں لیکن حرف تشبیہ مذکور نہیں۔البتہ دوسرے مصرع میں وجوہات تشبیہ مذکور ہیں۔اس شعر سے قرآن کریم کی عظمت کا بہت ہی خوبصورت اور علی طریق پر اظہار ہوتا ہے یعنی قرآن کریم شجر طیب کی طرح ہے جس میں یہ یہ خوبیاں ہیں۔اگر مشتبہ اور مشبہ بہ میں سے ایک مذکور ہو اور دوسرا مذکور نہ ہو۔تو اسے استعارہ کہتے ہیں جس کا حال آگے آئے گا۔دوسرا طریق حرف تشبیہ کو حذف کرنے کا یہ ہے کہ مشبہ بہ کومشتبہ کی طرف مضاف کریں۔جیسے زبوئے نافیہ عرفان چو محروم از بودند : پسندیدند در این شیر خلق این ملت راسه دور ثمین خدا یعنی عرفان مانند نافہ۔ان مثالوں سے تشبیہ، استعارہ وغیرہ کی تفاصیل پیش کرنا مقصود - بمطابق اغلاط نام شموله برا امین احمدیه د بر چهار حصته ، طبع اول ے ترجمہ : قان مبارک خدا کی رو سے ایک پاکیزہ ، بخت ہے ، جو تر و ازہ خوشبو دار سایہ دارا و سپیدار ہے۔کے ترجمہ: چونکہ معروں کی نوشبو سے ازل سے ہی کرم تھے اسلئے انہونی شہنشاہ عالم کی شان میں ذلت سند کی۔