درثمین فارسی کے محاسن — Page 156
(04 غرض تشبیہ اپنے آپ میں کم مائگی کے اظہار کا مبالغہ ہے۔جو مشبہ کی نسبت مشبہ بہ میں بہت زیادہ ہے۔مشہر اور مشبہ بہ میں ایک لحاظ سے اشتراک اور ایک لحاظ سے افتراق ہونا چاہیے۔اگر دونوں ہر لحاظ سے مساوی ہوں، تو تشبیہ باطل ہو جائے گی۔مزید شائیں یکھیے نعرہ ہائے زنم بر آب نکال : بچھو ما در دواں ہے اطفال کے ہمدردی اور خیر خواہی کی کیسی دلنشیں تشبیہ ہے۔در تمین هشت) از حقایق غافل و بیگانه اند : ہمچو طفلاں مائل افسانه الله د در ثمین ) یہاں ان کی تعمیر ایشان مشبہ اور طوں مشبہ بہ اور ہمچو حرف تشبیہ ہے۔وجہ شہر سادگی اور سادہ لوحی ہے۔جو بچوں میں کامل طور پر پائی جاتی ہے۔سے دہم فرعونیاں را ہر زماں : چون ید بیضیائے موسی صد نشان له دور ثمین ۲۵ دیکھئے ید بیضا کی تشبیہ سے نشان کی عظمت کیسی واضح ہو جاتی ہے۔ذره را تو بیک جلوه کنی چون خورشید : اے بس خاک کر چو مه تاباں کر دی تھی در زمین شنا) ترجمہ : میں مصفاپانی کے چشمہ پر کھڑا پکار رہا ہوں جس طرح ان اپنے بچوں کے پیچھے دوڑ رہی ہو۔کے ترجمہ : وہ حقائق سے نائل اور بیگا نہ ہیں اور بچوں کی طرح افسانوں کی طرف مائل ہیں۔سے ترجمہ ہیں ہر وقت فرعونی صفت لوگوں کو حضرت موسیٰ کے ید بیضا جیسے سینکڑوں نشان دکھاتا ہوں۔ے ترجمہ : اے محبت تو ایک تجلی ہے ذرہ کو سورج کی مانند بنادیتی ہے اور بت فوت کے خاک چمکتے ہوئے چاند کی طر بناد