درثمین فارسی کے محاسن — Page 155
۱۵۵ ا - علم بیان و۔بلاغت کی ایک شق علیم بیان ہے یعنی کلام میں تشبیہ، استعارہ وغیرہ کا استعمال۔یہ ہر زبان میں بہت عام ہے۔حتی کہ اگر کوئی شخص یہ کوشش کرے کہ ان کے بغیر چند صفحے ہی سکھے تو قریب قریب ناممکن ہوگا۔پس ہر شاعر خواہ ادنی ہو یا اعلیٰ اپنے کلام میں تشبیہات اور استعارات ضرور استعمال کرتا ہے۔اور جتنے اونچے مرتبہ کا شاعر ہو۔اتنی ہی موزوں تشبیہات ، لطیف استعارے اور بلیغ کنائے اس کے کلام میں پائے جائیں گے۔ان اصطلاحات کی مختصر تعریف نیچے درج کی جاتی ہے۔تا جن احباب کو اس علم سے واقفیت نہیں وہ ان تعریفوں کی روشنی میں حضرت اقدس کے کلام کے ایسے محاسن کو جانچ سکیں۔تشبیہ یہ ہے کہ کسی چیز کی کوئی صفت نمایاں کرنے کی خاطر حرف تشبیہ درمیان میں لاکر اسے اس سے ملتی جلتی کسی ایسی چیز سے مشابہ قرار دیا جائے جس میں وہ صفت زیادہ نمایاں طور پر پائی جاتی ہو۔مثلاً تکیه بر زور تو دارم گرچه من ! ہمچو خاکم بلکہ زماں ہم کمتر ہے ور تمین ) اس میں من دیعنی میں مشتبہ ہے۔اور خاک مشتبہ بہر دانہیں طرفین تشبیہ کہتے ہیں، ہمجھ حرف تشبیہ ہے۔وجہ شبہ کم مائی ہے، جو دونوں میں مشترک ہے۔لیکن خاک میں زیادہ نمایاں ہے۔ے ترجمہ : میں تیری قوت پر ہی بھروسہ رکھتا ہوں۔اگر چہ میں خود مٹی کی طرح ہوں، بلکہ اس سے بھی کم تو ؟