درثمین فارسی کے محاسن — Page 73
نعت گوئی میں مولانا جامی کو بڑی شہرت حاصل ہے، انہوں نے بھی ایک ترجیع بند لکھا ہے جس کی روی حضرت اقدس کی مذکورہ بالا نظم کی طرح لفظ محمد ہے۔اس ترجیع بند کے بھی دس ہی شعر نیچے نقل کئے جاتے ہیں تا ان کے تقابل سے حضرت اقدس کے کلام کی عظمت کا صیح اندازہ لگایا جاسکے : ماء معین چیست خاک پای محمد حبل متین ربقه ولای محمد خلقت عالم برای نوع بشر شد : خلقت نوع بشر برای محمد سواه همه قدیسیاں جبین ارادت : برته نعلین روش سای محمد عروه و تقی بس است دین و دول را به ریشه ای زگوشه ردای محمد جان گرامی دریغ نیست ز عشقش : جان من و صد چو من فدای محمد جای محمد درون خلوت جان ست به نیست مراد دیگر بجای محمد حمد شنایش به جز خدا که شناسد به من که و اندیشه شنای محمد لیس کلامی معینی بنحت کمالہ صل الہی علی النبی و آلہ نے ے ترجمہ: (فیض کے جاری پانی کا چشمہ کیا ہے، محمد کے پاؤں کی خاک محکم وسیلہ کیا ہے، محمد کی دوستی کی رہنی کا حلقہ دنیا کی پیدائش بنی نوع انسان کے لئے ہوئی اور بنی نوع انسان کی پیدائش محمد کی خاطر تمام فرشتوں نے پورے خلوص سے اپنی عقیدت کی پیشانی محمد کی جوتیوں کے تلے سے رگڑی، جن جوتیوں کی قدر و منزلت آسمان جیسی ہے۔دین و دنیا کے لئے پختہ سہارا محد کی چادر کے گوشہ کا تار ہے۔اس کے عشق میں عزیز جان کی قربانی ) بھی دریغ نہیں۔میری جان اور میری جان میسی سینکڑوں جانیں محمد پر خدا ہوں۔محمد کا مقام جان کی گہرائیوں میں ہے۔میرے لئے محمد کے بیر اور کوئی نہیں۔خداتعالی کے سوا آپ کی شناکی انتہا کا علم کسے ہوسکتا ہے۔میں کون اور محمد کی شناک خیال کیا ! یرا کلام آپکے کمال کی تعریف بیان کرنے سے قاصر ہے۔اس نبی پر اور اس کی آل پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں۔