درثمین فارسی کے محاسن — Page 72
کی تناکس والہیت سے بیان فرماتے ہیں : - عجب نور کیست در جان محمد به عجب لعلیست در کان محمد ز ظلمت یا دے آنگر شور صاف به که گردد از محبان محمد عجب دارم دل آن ناکسان را به که رو تا بندر انه خوان محمد ندانم بیچ نفسے در دو عالم به که دار و شوکت و شان محمد : خدا زمان زمینه بیزا درست صد بار به که هست از کینه داران محمد خدا خود سوزد آن کرم دتی را به که باشد از عدوان محمد اگر خواهی نجات از مستی النفس به بیا در ذیل مستان محمد اگر خواهی که حق گوید شنایت : بشو از دل ، ثنا خوان محمد اگر خواہی ویلے عاشقش باش : محمد هست بریان محمد ست دارم خدائے خاک احمد : بوکم ہر وقت قربان محمد دورتمین ۱۳۲۰۱۳ ے ترجمہ: محمد کی روح میں ایک عجیب نور ہے، محمد کی کان میں ایک عجیب و غریب لعل ہے۔دل اُسی وقت تاریکیوں سے نکل سکتا ہے، جب محمد کے محبتوں میں داخل ہو جائے۔مجھے ان نلائقوں کے دلوں پر حیرانگی ہے جنہوں نے محمدصلی اللہ علیہ سلم کی دعوت سے منہ موڑ لیا۔دونوں جہانوں میں مجھے کسی شخص کا علم نہیں جو حضرت محمد جیسی شان و شوکت کا مالک ہو۔خدا اس سینہ سے سمنت بیزار ہے، جو محمد سے کینہ رکھنے والوں میں سے شامل ہو۔خدا خود اس ذلیل کیڑے کو دل ڈالتا ہے جو محمد کے دشمنوں میں سے ہو۔اگر تو نفس کی بستیوں۔نجات چاہتا ہے تومحمدؐ کے مستانوں کے دامن تھے آجا۔اگر تو چاہتا ہے کہ خدا تیری تعریف کیسے تو تہ دل سے محمد کا ثنا خواں بن جا۔اگر تو اس کی سچائی کی دلیل چاہتا ہے، تو اس کا عاشق بن جا محمد خود اپنی دلیل آپ ہی ہیں۔میرا سر احمد کی خاک پاپر فلا ہے ، میرا دل ہر وقت محمد پر قربان ہے ؟