درثمین فارسی کے محاسن — Page 68
MA محبت بول مقبول صلی از بیرونم حمد باری تعالیٰ کی طرح حضرت اقدس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا میں بھی انتہائی انہماک تھا۔اور جیسا کہ قبل ازیں عرض کیا جا چکا ہے، کسی امرکا بیان ہو، کسی چیز کا ذکر ہو، آپ اس کا رخ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھیر لیتے تھے۔گویا خدا اور رسول کے علاوہ اور کوئی چیز قابل ذکر نہیں۔سچ ہے جس شخص کے دل میں کسی کی محبت نے گھر کر لیا ہو ، وہ کسی وقت بھی اس کی یاد سے غافل نہیں ہوسکتا۔چنانچہ حضرت اقدس نے آنحضرت صلی الہ علیہ وم کی الگ خالص نعتیں بھی لکھی ہیں اور دوسرے مضامین کے درمیان بھی بار بارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر لائے اور ایسے خوبصورت اور لذت بھرے الفاظ میں اپنے محبوب کا ذکر کرتے ہیں کر قاری کا دل بے اختیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔نعت کا ایک اقتباس اور پر گذر چکا ہے۔اب مزید جواہر پار سے ملاحظہ فرمائیے : ذات باری تعالی کے عاشقوں پر اللہ تعالی کی انتہا عنایات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔آئی شیعہ عالم که نامش مصطفے : سید عشاق حق شمس الضحی آنکہ ہر نور سے طفیل نور است : آنکه منظور خدا منظور اوست آنکه بیر زندگی آب رواں : در معارف ہمچو بحر بیکران ترجمہ :۔وہ جو دونوں جہانوں کا بادشاہ ہے جس کا نام مصطفے ہے، جو عاشقان اپنی کا سردار ہے۔اور دوپہر کا سورج ہے۔وہ جس کے نور کے طفیل باقی سب نور ہیں۔وہ جس کو جو کچھ منظور ہو وہی خدا کو بھی منظور ہوتا ہے۔وہ زندگی کے لئے ایک جاری چشمہ ہے اور معرفت کے بھیدوں کا نا پیدا کنار سمند ر ہے ہے