درثمین فارسی کے محاسن — Page 69
44 آن که برصدق و کمالش در جہاں صد دلیل و حجت روشن عیاں آنکہ انوار خدا بر روئے اُو : مظہر کارِ خدائی کوئے اُو آنکه جمله انبیاء و راستان ؛ خادمانش ہمچو خاک آستان آنکہ مہرش می رساند تا شما : مے گند چون ماہ تاباں در صفا سے دیگر فرعونیاں راہ رساں : چون ید ببضائے مولی صد نشان در تمین فست) اس کے بعد اس نظم میں حضرت اقدس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مخالفین تیرہ دل کے ایک اعتراض کے رو کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔(دیکھئے صنف ہذا )۔- جان دلم فدائے جمال محمد است با خاکم نشاید کوچه آل محمد است دیدم بعین قلب شنیدم بگوش ہوش : در هر مکان ندائے جلال محمد است : ر این چشمه روای که بخلق خداد هم به یک قطره زبیر کمال محمد است این آتشم ز آتش مهر محمدی است : میں آب من از آب زلال محمد است و در زمین شد نے ترجمہ :۔جس کی سچائی اور کال پر دنیا میں سینٹروں روشن دلائل اور شواہد موجود ہیں وہ جسکے منہ پر دائی نوار برستے ہیں جس کا کوچہ نشانات اپنی کا مظہر ہے۔وہ کہ تمام نبی اور راست باز خاک در کی طرح اس کے خادم ہیں۔وہ جیس کی محبت آسمان پر پہنچا دیتی ہے اور صفائی میں چمکتے چاند کی مانند بنا دیتی ہے۔وہ نبی فرعونی سیرت لوگوں کو ہر وقت موسیٰ کے یہ بھیا جیسے سینکڑوں نشان دکھاتا ہے ؟ ے میری جان اور دل محمد کے جمال پر فدا ہیں۔میرا یہ خاکی جسم آل محمد کے کوچہ پر قربان ہے، ہمیں نے دل کی آنکھوں سے دیکھا اور عقل کے کانوں سے سناء ہر جگہ محمد کے جلال کا شہرہ ہے (معارف کام یہ چشمہ رواں جو میں خلق خدا کو پیش کرتا ہوں ، یہ محمد کے کمالات کے سمندرمیں سے محض ایک قطرہ ہے۔میری یہ آگ محمد کے ہی عشق داہنی کی آگ کا پر تو ہے، میرا یہ پانی زندگی بخش تعلیم محمد کا ہی مصفا پانی ہے ؟