درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 40 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 40

لائی گئی ہیں۔ان سے بہت زیادہ صفات حضرت اقدس کے دس شعروں میں سموئی ہوئی ہیں۔اب ایک اور ماہر فن " عارف معارف حقیقت، سالک سالک طریقیت ، مولانا نور الحق والد عبد الرحمن جامی کی بیان کردہ حمد کا نمونہ بھی دیکھئے جن کے متعلق دولت شاہ سمرقندی اپنے تذکرة الشعراء میں لکھتے ہیں :۔در مصطبه جامی تا کشاده شده مجلس رندان نامی در هم شکست و عروس ببر و فکر تا نامزد این مرد سعی شده مخذرات حجرات دعوای عقیم و سقیم شدند۔توتیان شکر شکن هند و اسواد دیوان و منشآتش خاموش ساخت و شیرین نه بانان و فارسان میدان فارس مشهد اشعارش نوشیدند دیگر انگشت بزنمکدان کلام مسیح گوریاں نزدند دو یا چه دیوان کامل جافی ملت) یہ صاحب فضل و کرم بزرگ فرماتے ہیں : سے زان پیش کز مداد دهم خاصه را مدد خواہم مدد فضل تو اسے مفضل احمد ره) باشد که طی شود ورق علم و فضل من بن حمد ترا بفضل تو نه به فضل خودت ار ترجمہ میں وقت جای کے میخانہ کا دروازہ کھول گیا ہے۔بڑے بڑے نامی رندوں کی مجلس تتر بتر ہو گئی ہے اور جس وقت سے فکر سخن کی دوشیزہ دلہن کی نسبت اس صاحب علم فضل جوانمرد سے قرار پائی ہے۔دعاوی کے مجروں کی پردہ نشین بانجھ اور عیب دار بن گئی۔اسکے دیوان اور دوسری تصانیف کی سیاہی نے ہندستان کی شیریں زبان طوطیوں کوخاموش کر دیا ہے اور فارسی نظم کے شہسواروں نے جس دن سے اس کے اشعار کا شہد چکھا ہے انہونی کس ملی گود شاہ) کے نمکدان ردیوان) کو انگلی نہیں لگائی لاس تعریفی بیان سے یہ اندازہ بھی لگائیے کہ اس زمانہ میں بات کو کیسے پیچیدہ اور مشکل طریق پر ادا کرنے کا رواج ہو گیا تھا۔چنانچہ شعرمیں بھی یہی طرز پسند کی جانے لگی۔خواہ مطلب کچھ بھی حاصل نہ ہو)۔1۔اس پہلے کہ میں سیاہی سے قلم کی مد کروں العینی دوات میںقلم ڈالوں تجھ سے بھی اسے یکساما فضل تیرے فضل کی کا ولی ہوں کہ میرے علم میں کامیابی مال ہوگی کہ تیری مدیر و کرم سے کی جاتی ہے کہ اپنے کام میں سے ؟