درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 39 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 39

؛ اگر با پدر جنگ جوید کیسے ؟ پدر بے گماں خشم گیرد بسے و گر خویش راضی باشد ز خویش چوبیگانگانش برانداز پیش وگر بنده چابک نہ آید بکار : عزیزش ندارد خداوندگار اگر با رفیقان نبات شفیق : بفرسنگ بگریز و از مسی رفیق و گر ترک خدمت کند لشکری شود شاه لشکر کشتن از دے بیری ولیکن خداوند بالا و پست به بعصیان در رزق هر کس نه لیست نه د بوستان صدا یہ حمد دوسرے بزرگوں کی بیان کردہ حمداہی سے نسبتہ بہتر ہے۔لیکن پھر بھی حضرت اقدس کی بیان فرمودہ حمد کے مرتبہ تک نہیں پہنچتی شعر کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی اختصار ہے۔لیکن شیخ سعدی نے ایک ہی تخیل کو بلاضرورت پانچ چھ اشعار میں دہرایا۔یہی وجہ ہے کہ دوسرے بزرگوں کی نسبت آپ کی حمد کے زیادہ شعر نقل کرنے پڑے۔کیونکہ شرط وجزا کا جو سلسلہ شعر نمبر 4 سے شروع ہوا تھا اس کی استثنا ء شعر نمبر ۱۲ پر جاکہ آئی۔اس کے مقابلہ میں حضرت اقدس کے کلام میں بے جاطول کہیں نہیں۔چنانچہ شیخ کے بارہ شعروں میں جو صفات : ترجمہ : بے شک اگر کوئی شخص اپنے باپ سے آمادہ جنگ ہو، تو باپ یقینا بہت غصہ کرتا ہے۔اگر کوئی اپنا یعنی رشتہ دار کسی دوسر سے رشتہ دار سے خوش نہوں تو وہ رشتہ دار اسے غیروں کی طرح اپنے پاس سے بھگا دے گا۔اگر کوئی غلام چستی اور مستعدی سے اپنے مالک کی خدمت نہ کرے تو اس کا مالک اسے کبھی پسند نہیں کرے گا۔اگر کوئی شخص اپنے دوستوں سے شفقت کا سلوک نہ کرے، تو اسکی دوست اس کوسوں دور بھاگ جائیں گے۔اسی طرح اگر کوئی سپاہی اپنا ی خدمت ادا نہ کرے تو شکر کو ٹرائی کیلئے تیار کرنے کے وقت بادشاہ اس سے تعلق توڑے گا لیکن بلندی و پستی کا مالک خداوند تعالی گناہوں کی بنا پر رزق کا دروازہ کسی پر بند نہیں کرتا۔