درثمین فارسی کے محاسن — Page 41
نشکفت جز شکوفہ حمد وثنائے تو : در باغ کن نہال قلم چون کشید قد هستی برای ثبت ثنایت صحیفه ایست :: کاغانه آن ازل بود انجام آن ابد در جنب آلی صحیفه چه باشد اگر بفرض به شد نامه در شنای تو انشا کند خود بالذات واحدی نود اعداد کون را به نبود جز اختلاف ظهور تو مستند ریخسار وحدت تو جمال دگر گرفت و در دیده شهود زخال و خط عدد از کثرت زید نشود بحر مختفی : بحر حقیقی تو و عالم ہمہ زید بر آفتاب سایه نیفتاد اگر چه شد به محدود برسر الفش سائیان مد عنوان نامه کرم و فضل نام تست به خوش آنکه شد بنام و نام تو نامزدی د دیوان کامل جاتی ص۳۲ ) سے :۔آج کل ایران میں صد (معنی سکو) کو ص کی بجائے سین سے لکھتے ہیں : ه جیب دارشاد الہی اسے کئی کے باغ میں قلم کے درخت نے قد پکڑ لیا۔تو اسی تیری حمدوثنا کے سوا اور کوئی شگوفہ نہ پھوٹا۔یہ عالم کائنات تیری شنا لکھنے کے لئے ایک ایسی کتاب ہے ، جس کی ابتدا ازل سے ہوئی ہے اور خاتمہ ای کو ہی ہوگا یعنی کبھی نہیں ہوگا۔اگر بفرض محال کوئی صاحب عقل تیری شامیں سینکڑوں مسودے بھی لکھ ڈالئے تو اس کتاب فطر یکے مقابلہ میں اس کی کیا وقوت ہو سکتی ہے۔تو اپنی ذات میں اکیلا ہے اور کائنات کے تمام افراد تیرے مختلف جیلوں کے ہی مظاہر ہیں۔ان مختلف شکلوں اور صورتوں کے ذریعہ شاہد کے درجہ پر پہنچے ہوئے لوگوں کی نگاہ میں تیری دورت کے جلوہ نے نیا سن اختیار کر لیا ہے۔جھاگ کی زیادتی کی وجہ سے سمندر نہیں چھپ سکتا۔توحقیقت کا سمندر ہے ، اور یہ سب عالم کائنات جھاگ کی حیثیت رکھتا ہے لہذا تجھے نہیں چھپا سکتا، اگرچہ آفتاب کے الف پر متد کا سائیان پھیلا ہوا ہے۔پھر بھی وہ آفتاب پر سایہ نہیں ڈال سکا یعنی اُسے چھپا نہیں سکا۔تیرا نام فضل و کرم کا عنوان ہے۔خوش قسمت ہے وہ شخص جو تیرے فرمان اور تیرے نام سے منسوب ہو جائے :