درثمین فارسی کے محاسن — Page 31
۳۱ حمد الہی اب حضرت مسیح موعود کے کلام سے حسن مفہوم اور بلند پایہ مطالب کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں، جن سے روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے۔کہ صرف اسلام ہی زندہ مذہب ہے، جو انسان کو رب العالمین کی بارگاہ تک پہنچا سکتا ہے۔اس کے عقائد فطرت کے عین مطابق ہیں۔اس کی تعلیم تمام خوبیوں کی جامع اور ہر قسم کے نقائص سے پاک ہے۔اس کا نبئی بنی نوع انسان کا سب سے بڑا محسن ہے جس کی وساطت کے بغیر انسان نہ نیکی بدی کو کما حقہ شناخت کر سکتا ہے۔نہ گناہ اور تاریکی سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔اور نہ کوچہ عرفان الہی میں قدم رکھ سکتا ہے۔اس کی کتاب دل و دماغ کو روشنی بخشتی ہے۔نیکیوں کی طرف رغبت اور برائیوں سے نفرت دلاتی ہے۔غرض حضرت اقدس کے نزدیک صرف اسلام ہی صحیح معنوں میں دین کہلانے کا ستی ہے۔یہ سب امور اور دوسرے تمام ضروری مضامین اس در ثمین میں بڑی خوبصورتی اور وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں۔سب سے پہلی نظم حم الہی پرمشتمل ہے۔اگرچہ انشا پردازی اور شعر و شاعری میں حضرت اقدس کسی کے مقلد نہیں تھے۔بلکہ آپ نے خود ایک عظیم الشان انشا پردازی کی داغ بیل ڈالی۔پھر بھی قبل ازیں اس کام کے لئے جو طریق اور دستور موزوں اور مناسب قرار پا چکے تھے۔ان سے آپ نے عموما انحراف نہیں کیا۔مثلاً اکثر بزرگ مصنفین اپنی کتاب حمد الہی سے شروع کرتے ہیں۔پھر نعت رسول کریم لاتے ہیں اور اس کے بعد دوسرے مضامین ، چنانچہ حضرت اقدس نے بھی اپنی سب سے پہلی کتاب براہین احمدیہ حمد الہی سے شروع کی اور اس کے بعد نعت نبی لکھی۔یہی حمد در ثمین فارس کی پہلی نظم ہے۔یہ حمد مثنوی کی شکل میں ہے۔اور حمد کے لئے مثنوی کی مخصوص بحروں