درثمین فارسی کے محاسن — Page 32
۳۲ میں سے ایک بحر یعنی خفیف مسدس مجنون مقصور یا محذوف (فاعلاتن مفاعلن فعلن یا فعلان ) میں ہے۔آپ ذات باری تعالیٰ کی حمد میں یوں نغمہ سرا ہوتے ہیں سے ید که یکش بانی و بناساز نیست هر دم از کارخ عالم آواز لیست : زرکس اور اشریک و انبازیست : نے بکارش دخیل و ہمراز لیست این جهان را ، عمارت انداز لیست و از جهان، برتر است و ممتاز لیست وحده لا شريك ، حي وتدير : لم يزل ، لا يزال فرد و بصیر کار ساز جهان و پاک و قدیم به خالق و رازق و کریم و رحیم رهنما و معلم رہ دیں : ہادی و مهم معلوم یتیں منتصف ، باہمہ صفات کمال : برتر، از احتیاج آل و عیال ہر یکے حال هست، در همه حال : کره نیابد، بدوه فنا و زوال نیست از حکیم او ، بڑوں چیز ہے نہ زچیز لیست او ، نہ چوں چیزے نتوان گفت ، لامس اشیاست : نے تواں گفتن ایں کہ ، دورانہ ماست رور تمین هتاب ترجمہ : - نظام عالم ہر وقت یہ گواہی دے رہا ہے کہ اس جہان کا بانی اور نانیوا کوئی ضرور ہے۔نہ کوئی اس کا شریک ہے زرسانجھی نہ اس کام میں کوئی دخل دے سکتا ہے اورنہ اس کا کوئی ہمراز ہے۔وہی اس جہان کا معمار ہے۔اور خود اس جہان سے بالا تر اور متانہ ہے۔وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔زندہ ہے اور قدرت والا ہے، ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا۔تنہا ہے اور بلینا ہے۔وہ دنیا جہان کے کام نیانے والا ہے۔پاک، قدیم، خالق ، رزاق ، کریم اور رحیم ہے وہ دین کے راستہ کا رہنما اور استاد ہے اور یقینی علوم کی طرف رہنمائی کرنے والا اور ان کا الہام کرنیوالا ہے۔وہ تمام صفات کا ملہ سے متصف ہے۔اہل عیال کا حاجتمند نہیں وہ ہر زمانہیں ایک ہی حالت پرقائم رہتا ہے فنا اور زوال کا سکے حضور گذرنہیں سکے حکم سے کوئی شے باہر نہیں نہ وہ کسی چیز سےپیداہواہے ورنہ کسی پرے مشابہت رکھتاہے نہ کہا جاسکتا یا نہیں ہوا ہے اور یہ کہ سکتےہیں کر وہ ہم سے دور ہے نہ