درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 21 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 21

۳۱ مؤلف حدائق المبلا عفت نے اس حقیقت کو بڑے موثر اور دلکش طریق پر بیان کیا ہے۔سکھتے ہیں :۔باید دانست که شاعر را واجب است که چون متوجه بضایع لفظی شود رعایت معنی را مقدم بدارد و الا شعر ہے کہ مشتمل بر صنعت لفظی باشد و در جر معنی در منحط شود۔مثل سنگی یا خوکی است که عقد جواهر در گردن او بسته باشند (حدائق البلاغت ملا) جاننا چاہتے ہیں کہ شاعر کے لئے واجب ہے کہ جب صنائع لفظی کی طرف متوجہ ہو، تو معنی کی نگہداشت کو مقدم رکھے۔ورنہ جو شعر صرف صنعت لفظی پرمشتمل ہوا اور اس میں معانی کا درجہ گرا ہوا ہوگا تو وہ اس کتے یا سٹور کی مانند ہے جس کے گلے میں موتیوں کا ہار ڈال گیا ہو۔غرض بزرگ مذکور کے نزدیک فنون بلاغت کو معانی یعنی اصل مطلب پر فوقیت دنیا قابل مذمت ہے۔ورنہ ان فنون کے استعمال کے متعلق تو انہوں نے خود ایک ایسی اچھوتی دلیل دی ہے جو اور کہیں نظر نہیں آتی (خاکسار اختصار کی خاطر اصل اقتباس پیش کرنے کی بجائے صرف اس کا ترجمہ درج کرتا ہے) فرمایا :- ارباب بلاغت کو اس امر پر اتفاق ہے کہ مجاز اور کنا یہ حقیقت اور تصریح سے زیادہ بلیغ ہوتا ہے اور استعارہ تشبیہ سے زیادہ قومی مجاز اور کنایہ کے زیادہ بلیغ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مجاز میں عزوم کی طرف سے لازم کی طرف انتقال کیا جاتا ہے۔چنانچہ اگر تو کہے کہ میں نے آفتاب کو دیکھا اور مراد معشوق ہو تو وہ اس سے زیادہ بلیغ ہوگا، کہ تو کہے کہ میں نے معشوق کو دیکھا۔کیونکہ وہ ایسے دعوای کی مانند ہے جس کے ساتھ گواہ موجود ہے کیونکہ ہر لزوم اپنے لازم کے وجود کا گواہ ہے۔بوجہ اس کے لازم ملزوم سے جدا نہیں ہوسکتا۔اور یہ ایسے دعوی کی مانند ہے جس کے ساتھ گواہ نہیں اور دعوی با گواہ اور دعوی بے گواہ میں فرق ہے۔پس خوب سمجھ لیجئے اور تشبیہ کی نسبت استعارہ کے زیادہ قوی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ