درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 22 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 22

۲۲ وجہ شبہ مشبہ کی نسبت مشبہ بہ میں زیادہ کامل ہونی چاہیے۔اور استعارہ میں مشبہ کو عین مشبہ بہ قرار دیتے ہیں۔اس میں تشبیہ کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔اور استعارہ میں مشتبہ یہ کا ارادہ نہ کرنے کا قرینہ ہونا ضروری ہے۔پس یہ لمبا دعوی باگواہ کے حکم میں ہے۔جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے۔(حدائق البلاغت ۵۹) یہاں استعمال شدہ اصطلاحات کے لئے آگے دیکھئے عنوان علم بیان صب ہذا۔پس فنون بلاغت کا استعمال یقینا مستحسن ہے۔بشرطیکہ حدود سے تجاوز نہ کیا جائے۔فنون چنانچہ مولانامحمد حسین صاحب آندا د لکھتے ہیں کہ : نشدہ کے بعد کشور نظم میں عجیب انقلاب پیدا ہوا۔قاعدہ ہے کہ جب تک شاعری عالم طفولیت میں رہتی ہے اس سے عام و خاص شخص مزا اٹھاتا ہے سبب بھی بیان کر چکا ہوں۔کہ مطالب ان تشبیہیوں اور استعاروں میں ادا ہوتے ہیں جو ہر جگہ اور ہر وقت پیش نظر ہیں۔ایک عرصہ بعد جب وہ اہل سخن کے خرچ میں آجاتے ہیں۔تو نئے شاعر اپنے کلام میں نئی بات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ناچار وہ با ریک یا عمیق یا بلند یا دور کے مجاز اور استعاروں میں ادا کرتے ہیں۔اس لئے کلام باریکی سے تاریخی میں گر کر کبھی غور طلب اور کبھی لیے لطف ہو جاتا ہے۔زبان فارسی میں عہد سعدی و حافظ تک شاعر جب بہت سے عمدہ اور دلکش انداز اور استعارے اور مجاز خرچ کر گئے تو بعد کے آنے والوں کو اس کے سوا چارہ نہ ہوا کہ استعارہ کو استعارہ در استعارہ اور مجاز کو مجاز در مجاز کر کے مضمون میں نزاکت اور باریکی پیدا کریں اور سننے والوں سے کہلوائیں سبحان اللہ انیا مضمون ہے۔اس طرزہ کے بانی جلال اسیر، قاسم مشہدی اور ملا ظہوری وغیرہ تھے۔انہوں نے تعریفوں کے شوق میں اصلیت کو چھوڑا اور مجاز کو حقیقت سے بڑھا دیا یعنی بے اصل کو اصلیت قرار دیکر اس کے