درثمین فارسی کے محاسن — Page 17
16 فصاحت و بلاغت فصاحت و بلاغت کیا ہے؟ بات کو ایسے طریق پر بیان کرنا کہ کلام خوبصورت بھی ہو، پر اثر بھی اور آسانی سے سمجھ میں بھی آسکے۔یہ شخص بولنے کی صلاحیت سے کسی نہ کسی حد تک اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے ، اور جوں جوں فراست اور تجربہ میں بڑھتا جاتا ہے اپنے کلام کو مختلف طریق سے زیادہ موثر اور خوبصورت بناتا جاتا ہے۔مناسب الفاظ سن کر انہیں صحیح ترتیب دے کر۔مالی لاکر تشبیہ و استعارہ وغیرہ) تزئین کلام کے دوسرے فنون (صنائع بدائع ) استعمال کر کے ، اور ترقی کرتے کرتے بعض اشخاص ایسا کمال حاصل کر لیتے ہیں کہ پھر بغیر کوشش اور تردد کے ان کی زبان اور فلم سے فصیح و بلیغ کلام ہی نکلتا ہے۔یہانتک کہ ان کا کلام حدیث قدسی اِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سخدا کے مطابق سحر حلال بن جاتا ہے۔اس سحر حلال کو نظم کی شکل میں ڈھال لیا جائے، تواسی کا نام شاعری ہے۔جو بعض ادباء کے نزدیک فصاحت و بلاغت کا انتہائی مقام ہے۔اسی لئے کہا گیا ہے :۔" حيث قيل فلوانهم سألوا الحقيقة ان تختار لها مكانا تشرف منه على الكون لما اختارت غير بيت من الشعری که اگر حقیقت امر سے کہیں کہ وہ اپنے لئے ایک ایسی جگہ تجویز کر سے جہاں سے وہ حقائق عالم موجودات عالم پر اطلاع پا سکے ، تو وہ بیت شعر کے علاوہ اور کوئی مقام پسند (ماخوذ از دبیر نجم اصل) ایک بڑی حد تک تو یہ بات یقینا درست ہے کہ شاعری فصاحت و بلاغت کا انتہائی نہیں کرے گی " مقام ہے، لیکن کلیتہ درست نہیں کیونکہ منشور کلام بھی انتہائی طور پر صیح و بلیغ ہوسکتا ہے۔