درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 267 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 267

- 11 حضرت اقدس اسے بھی عشق رسول کی طرف لے گئے۔فرمایا :- آں منم کا ندر رو آن سرور در میان خاک و خوں بینی سریے حافظ شیرازی کی ایک غزل کا مطلع ہے : ے در ثمین ) ی تا از درمیان شادی طلبیم بر در دوست بشینیم و مراد علیم حضرت اقدس نے اس شعر میں ذراسی تبدیلی کر دی ہے۔فرمایا ہے خیر تا از درگی یار مراد ے طلبیم بر در دوستی کا ایلی استاد راه دیرگاه بیست که بینیم زمین پر فساد به که با دست دعا صدق شهداد طلبیم و تین ص۲۲۵ ) دیکھیئے الفاظ کی ذراسی تبدیلی سے شعر کہاں تک جاپہنچا ہے۔خیز کے لفظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوچنے والا کسی اور جگہ ہے اور وہ در میخانہ پر جانے کا ارادہ کر رہا ہے ، اس وقت وہ دروازہ کھلنے کی خواہش نہیں کرے گا۔بلکہ یہ کہے گا چو در میخانہ پر جاکراپنی مراد مانگیں۔ہاں جب وہاں پہنچ جائے تو دروازہ کھلنے کی خواہش کرے گا یعنی دعا کی قبولیت کی۔اس کے بعد دعا کیا مانگے گا اس کی وضاحت دوسرے شعر میں ہے۔حافظ شیرازی نے اپنے ایک قصیدہ میں اپنے ممدوح منصورین محمد غازی کو مخاطب کر کے لے ترجمہ: میں تو وہ ہوں کہ اس سردار کی راہ میں تو ایک سرخاک اور خون میں لتھڑا ہوا دیکھے گا۔ترجمہ اھوتا میخانہ کے دروازہ پر جاکر کشایش مانگیں اور دوست کے دروازہ پر بیٹھ کراپنی مرادمانگیں۔سے ترجمہ : اٹھو دوست کے دروازے پر جاکراپنی مراد انھیں جوکے دروازہ پر بیٹھیں اوراس کے کھلنے کی درخواست کریں۔مدتوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ زمین خرابوس بھری ہوئی ہے ، بہت ہے کہ دعا کیلئے ہاتھ اٹھا کر صدق اور راستی مانگیں۔