درثمین فارسی کے محاسن — Page 268
PYA کہا تھا۔گری کم دل از تو بردارم از تو هم آی مر بر که انتم آن دل کجا بریم حضرت اقدس نے اسے یوں بدل دیا گر میر خویش بر کنم از روئے البروم با آن ہیں کہ انگلند آ مل گیا برشته معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس کو یہ شعر پسند آیا لیکن افسوس ہوا کہ ایسے سچے موتی جھوٹے معبودوں پر نشار کئے جا رہے ہیں۔لہذا آپ نے پہلے مصرع کو تبدیل کر کے یہ موتی محبوب حقیقی کے قدموں میں لاڈالے۔قبل ازیں وضاحت کی جاچکی ہے کہ اہل فن کے نزدیک کسی اچھے کلام کے رخ کو پھیرنا (صرفه من وجه الى وجه آخر) معیوب نہیں بلکہ مستحسن ہے، بشرطیکہ کلام زیادہ فصیح وبلیغ ہو جائے اور اس سے پہلے شاعر کی تنقیص نہیں ہوتی ، بلکہ عزت افزائی ہوتی ہے کہ ایک غیر معمولی قادر الکلام شخص نے بھی اس کے کلام کو درخور اعتنا سمجھا۔اسی مفہوم کو حضرت اقدس ایک جگہ یوں بیان فرماتے ہیں اسے این خدا است ریت اربابم و بگه رو گرم دراز و تا به ذرا ان الفاظ کا اختصار اور معانی کا حسن دیکھئے۔۔ایسا ہی ایک شعر شیخ سعدی کا ہے : سه در ثمین (۳۳۵) ترجمہ :اگرمیں اپنادل تجھ سے کھاڑ لوںاوراپنی محبت تجھ سے شالوں، تو پھرمیں اس میت کو کہاں جھینگوں اوراس کو کہائی باہوں۔کے ترجمہ : اگر میں اپنی محبت رئے محبو سے پھیر لوں تو اس محبت کو کہاں پھینکوں اور اس دل کو کہاں لے جاؤں۔ا ترجمہ : یہ ہے میر خدا جو پر درش کرنیوالوں کی پرورش کو نواں ہے ، اگر میں ایسی رخ پھیر لوں تو کس طرف رخ کروں۔