درثمین فارسی کے محاسن — Page 266
- < - کیا فصاحت و بلاغت ہے ، ایک ایک لفظ جوش سے بھرا ہوا ہے سیمان اللہ و بحمدہ - لیکن چوز غور و فکر بینم از ماست مصیلت که بر ماست یہ بات ناصر خسرو نے بھی کہی ہے : پ گفتا که ما نالیم که از ماست که برماست اول تو از ماست که بر ماست کے الفاظ ضرب المثل بن چکے ہیں، دوم یہ کہ غور و فکر کے الفاظ لا کر مفہوم کو زیادہ موثر بنا دیا گیا ہے۔۸ - حافظ شیرازی کا ایک مشہور شعر مضرت اقدس کو الہام ہوا تھا الحکم می فروری ) هرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد عیشق به ثبت است بر جریده عالم دوام ماه حضرت اقدس اس شعر کے دونوں مصرعوں کو الگ الگ اپنے دو شعروں میں لے آئے اسے آنانکه گشت، کوچه جانان مقام شان : ثبت است بر جریده عالم دوامشان هرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق : میرد کسے کر نیست مرامش مرام شانه دور ثمین ) - شیخ سعدی نے ایک بہادر شہزادے کے منہ سے کہلوایا تھا سے ن نمی باسم کر از جنگ مینی پشت من آن جسم کا درمیان خاک خود مینی رشتے ترجمہ این جی میں دور کرکے دیکھتا ہوں تو سلوم ہوتاہے کہ وصیت ہم پر پڑی ہے وہ ساراپنے ہی باتوں پڑھی ہے۔کے ترجمہ: اس نے کہا کہ کس کا رونا روئیں کیونکہ جو کچھ ہم پر وارد ہوا ہے وہ ہماری اپنی وجہ سے ہی ہے۔ترجمه و شخص ہرگز نہیں مرتا جس کادل عشق سے زندہ ہوگیا کیونکہ ہمارا نام ہمیشہ کے لئے اس دنیا کے فرمیں لکھا جا چکا ہے۔کے ترجمہ : وہ لو جی اٹھکانا جنوب کی گلی بن گئی ہے، ان کا نام اس دنیا کے دفترمیں ہمیشہ کے لئے ثبت ہے۔وہ شخص ہرگز نہیں مرتا جس کا دل عشق سے زندہ ہو گیا ، مرتا ر ہی ہے جس کا مقصد ان عاشقوں) کا مقصد نہ ہو۔شہ ترجمہ نہیں ایسا نہیں کہ لڑائی کے دن تو میری پیٹھ دیکھ سکے ہیں وہ ہوں کرمٹی اور خون کے اندر تجھے ایک سر نظر آئے گا۔