درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 248 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 248

- ١٠ ۲۴۸ تو مردان آن راه چون بنگری که از کینه و بغض کور و کری رچہ دانی که ایشاں جہاں سے زیند : زرو نیا نہاں در یہاں سے زیند ند گشته در راه آن جان پناه زلف دل ز سر اوفتاده کلاه کف : دل ریش رفتہ بکوئے دیگر : زیتحسین ولعن جہان بے خبر وبیت المقدس، دروں پر یہ تاب : رہا کرده ، دیوار بیروں ، خراب ہے" دور ثمین ) آخری شعر شیخ سعدی کا ہے۔اور وادین سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شعر حضرت اقدس کا نہیں۔اے بے خبر بخدمت فرقان کر به ند به زمانی پیش تر که بانگ بر آید فلان نمیده در تمن ) دوسرا مصرع شیخ سعدی کے ایک مشہور شعر کا ہے۔سے ترجمہ : تواس راہ کے جوانمردوں کو کس طرح پہچان سکتا ہے، کیونکہ تو کینہ و نبض کے بارے اندھا اور بہرا ہوگیا ہے۔تجھے کیاخبر کروہ لوگ کیسے جیتے ہیں، وہ تو دنیا سے پوشیدہ در پوشیدہ زندگی بسر کرتے ہیں۔وہ اس جان کی پناہ کی راہ میں قربان ہو چکے ہیں ، ان کا دل ہاتھ سے جاتا رہا اور کلاہ سر سے گر گیا ہے )۔ان کا زخمی دل کسی اور ہی کو چھہ میں گیا ہوا ہے ، وہ دنیا کی آخریں اور نظریں دونوں سے بے خبر ہیں۔بیت المقدس کی طرح ان کا اندرونہ روشن ہے، مگر باہر کی دیوار خراب اور خستہ ہی رہنے دی ہے : کے ترجمہ : اسے بیخبر قرآن کی خدمت کرنے کے لئے کمر باندھ سے، اسی پہلے کہ آواز آئے کہ فلا شخص مر گیا ہے :