درثمین فارسی کے محاسن — Page 249
احذ اب رہا آخذ " جسے اقتباس بھی کہتے ہیں یعنی " کسی کے کلام کو بغیر اس کے ذکر کے اپنے کلام میں داخل کرنا یا یہ بہت نازک معاملہ ہے۔کیونکہ الفاظ یا خیالات پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔عین ممکن ہے کہ کسی کے ذہن میں کوئی عمدہ مضمون آئے اور وہ اسے بے خبری میں اپنی الفاظ میں باندھ لے جن میں وہی مضمون کوئی پہلا شاعر ادا کر چکا ہو۔اور پچھلے شاعر کو اس امر کا کوئی علم نہ ہو۔کیونکہ کسی شخص کے لئے بھی یہ مکن نہیں کہ شعر کہنے سے پہلے اپنے پیش روی کا تمام کلام مطالعہ کرکے اسے اپنے ذہن میں محفوظ کرے۔چنانچہ منصف مزاج اہل فن ایسے کلام کو توار د کہتے ہیں اور اسے سرقہ پر محمول نہیں کرتے۔خصوصا اس صورت میں جبکہ دوسرا شاعر بھی فن شاعری میں ماہر ہو۔ہاں کوئی نا اہل شخص جو چاہے کہتا پھرے۔یا حسد اور تعصب کی بنا پر کوئی شاعر کسی دوسرے شاعر پر زبان طعن درانہ کرے۔جیسے عبید زاکانی نے امیر خسرو کے متعلق کہا غلط افتاد خسرو را نخامی : که سکبا پخت در دیگ نظامی حالا نکہ امیر خسرو وہ قادر الکلام شاعر ہے جس کسی کمال فن کا اعتراف ایران اور ہندوستان کے اکثر نقاد اور تذکرہ نویسی کرتے آئے ہیں۔مولانا نظامی کے بعد سو سال تک کسی کو مولانا کے خمسہ (پانچ مثنویوں کا جواب لکھنے کی جرأت نہ ہوئی۔اس بات کا بیڑا امیر خسرو نے اٹھایا۔اور ترجمہ و نادانی کی بنا پر خسرو سے یہ غلطی سرزد ہوئی کہ اس نے نظامی کی دیگ میں ملغوبہ پکایا۔