درثمین فارسی کے محاسن — Page 247
اس دن کی موت کو بھی مبارک سمجھتے ہیں۔لیکن مبارک دن کو واقع ہونے والی موت اگر نی کی پر نہ ہو تو کیا فائدہ واپس حضرت اقدس کے تصرف نے شعر کا پایہ بہت بلند کر دیا۔حقیقۃ الوحی ص۳۳۲ پر حضرت اقدس نے فرمایا ہے کہ :۔یکی شیخ سعدی علیہ الرحمہ کے اس شعر کو حضرت عزت میں پڑھنا اپنے مناسب حال پاتا ہوں : پسندید گانے بجائے رسند : زما کہتر انت چه آمد پسند ؟ بوستان میں یہ شعر یوں ہے : پسندیدگان در بزرگی رسند : زمابندگانت چه آمد پسند ؟ ظاہر ہے کہ بزرگی تک محدود رکھنے کی نسبت ” بجائے" کے لفظ کی عمومیت سے (جس میں بزرگی بھی شامل ہے یہ شعر زیادہ بلیغ ہو گیا۔اسی طرح بندگان خدا تو بڑے سے بڑے ہو سکتے ہیں۔پسندیدگان کا تقابل کہتران سے پیدا ہوتا ہے۔دوسری جگہ حضرت اقدس اس شعر کو اپنے دوشعروں کے درمیان لائے ہیں : عجب دارم از لطفت اسے گوردگار : پذیرفته چون من خاکسار پسندید گانے بجائے رسند : زما کہتر انت چه آمد پسند؟ چو از قطره خلق پیدا کنی : ہمیں عادت اینجا ہویدا گئی تجبت الہیہ ملت لے ترجمہ ، پسندیدہ لوگ توکسی مرتبہ تک پہنچ سکتے ہیں، ہم جیسے ھیروں کی کونسی بات تجھے پسند آگئی۔کے ترجمہ ، پسندیدہ لوگ توکسی عظمت کو پہنچ سکتے ہیں، ہم جیسے غلاموں کی تجھے کونسی چیز پسند آ گئی۔سے ترجمہ : ا سے خداوند مجھے تیری مہربانیوں پر تعجب ہے، کہ مجھ جیسے عاجز کو تو نے پسند کر لیا ہے۔پسندیده لوگ تو کسی مقام کو حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن ہمارے جیسے حقیروں کی کونسی چیز تجھے پسند آ گئی ، جب تو ایک قطرہ سے ایک جہان پیدا کر لیتا ہے، تو یہی عادت یہاں دیعنی میری نسبت بھی دکھاتا ہے :