درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 113 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 113

ورنہ این ابتلا، نیما بردار به رکه رحیمی و متادر و غفار اہلِ اخلاص، چون كُنند دُعا به از سر صدق و ابتهال و بکا شور افتد ازان، در ایل سیما به برای رسد حکیم نصرت و ایوا نهای پس کجائی ، چرا نے آئی ؟ : اندریں، بارگاہ یکتائی تو دُعا کن ، بصدق و سوز و گداز * تا شود بر دلت، در حق بازی در ثمین ۳۳۵ تا ۳۴۷) اس نسخہ پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ نے ہزاروں لاکھوں طالبان حق کو حضرت اقدس کو قبول کرنیکی سعادت عطا فرمائی۔نسخہ آج بھی اتنا ہی کارگر ہے جتنا حضرت اقدس کی زندگی میں تھا۔نیز فرمایا :- من برین مردم بخواندم آن کتاب کان منزه اوفتاد از ارتیاب ہم خبر یا پیش کردم زمان رسول کو صدوق از فضل حق پاک از فضول لیکن ایشان را سحق رو نبود ؛ پیش گیر گئے گریڈ میشے چه سود ؟ در تمین طال۲۳ ے ترجمہ ورنہ یہ ابتلا ہم سے دور کر دے، تو رحیم ہے ، قادر ہے، اور غفار ہے۔اخلاص والے لوگ جب خلوص اور عاجزی اور گریہ و زاری سے دعا کرتے ہیں، تو آسمان والوں میں ایک شور پڑ جاتا ہے اور وہاں سے امداد اور پناہ کا حکم جاری ہوتا ہے۔پس رالے طالب حق تو کہاں ہے ؟ تو اس بارگاہ احدیت میں کیوں نہیں آجاتا۔تو خلوص اور سوزوگداز سے دعا کر تا تیرے دل پر سچائی کا دروازہ کھل جائے۔کے ترجمہ: میں نے ان لوگوں کو وہ کتاب پڑھ کر سنائی جو ہرقسم کے شک شبہ سے پاک ہے یعنی قرآن مجید) نیز رسول خدا کی حدیثیں بھی پیش کیں جو خدا کے فضل سے بہت ہی سچا ہے اور کبھی بے فائدہ بات نہیں کرتا لیکن ان لوگوں کو سچائی کی طرف کوئی رغبت نہیں تھی۔بھیڑیے کے آگے کسی بھیڑ کے رونے سے کیا حاصل ؟ :