درثمین فارسی کے محاسن — Page 112
١١٣ برس پراکنشی تو چنین خنجر زبان؟ و از خود نیم نیز اور دوا مجید اکبراله نه ذوالمجد دور ثمین ص ۱۷۱) جہاں تک قرآن و حدیث کا تعلق ہے۔مذکورہ بالا اقتباس میں صداقت مسیح موعود کے متعلق قریبا تمام دلائی آگئے۔لیکن ان کے علاوہ بھی اور کئی پہلو ہیں۔اگر چہ وہ بھی قرآن وحدیث سے ہی اخذ کئے گئے ہیں۔ان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس فرماتے ہیں اسے ترکن، از آشک خویش، بستر خویش و بازکب را گشائی ، بادل ریش کا سے خُدائے علیم راز نہاں : کے بعلمت رسد دلِ اِنساں بچوں کلائنک ندیده اند آن نور + کال در آدم ، تو داشتی مستور ما چه چیزم و علیهم ماست چه چیز ؛ ماست چه چیز : بے تو درصد خطر، قیاس در تمیز ما خطا کار و ، کاره ماست خطا ب شد تبه کار ما ، زعجلت ها گیر نی تست، این کر سوئے تو خواند ؛ و ز تو بہتر، گدام کسی دانک گنه ما به بخش و چشم کشا : تا نمیریم، از خلاف و را با ے ترجمہ اور مجھ پر اس طرح زبان کی چھری کیوں چلاتا ہے میں خود نہیں آیا کہ فلموں والے خدائے اگر نے مجھے تو بھیجا ہے۔سے ترجمہ اپنے آنسوؤں سے اپنا تکیہ بھگوئے اور پر درد بھرے دل سے یوں عرض کر کہ اسے پوشیدہ بھیڈی کے جانے والے خُدا تیرے علم تک انسان کا دل (خیال کہاں پہنچ سکتا ہے، جب فرشتوں کوبھی وہ نور نظرنہ آیا جو ونے اوم میں چھپا رکھا تھا۔تو ہم کیا چیز ہیں اور ہمارا علم کیا چیز ، تیرے بغیر قیاس اور تمیز کے لئے سینکڑوں خطر سے درپیش ہیں۔ہم غلط کار ہیں اور ہمارے کام بھی درست نہیں، ہماری جلد بازی کی وجہ سے ہی ہمائے سے سب کام خراب ہو گئے۔اگر شخص جو میں تیری طرف بلاتا ہے، تیری ہی طرف سے بھیجا گیا ہے۔اور تجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے۔تو ہمارے گناہ بخش اور ہماری آنکھیں کھول ، تاہم مخالفت اور انکار کی وجہ سے تباہ نہ ہوجائیں۔