درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 114 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 114

انکسار انبیاء اور اولیا کا طریق ہمیشہ انکسار ہی رہا ہے۔لہذا ایک طرف ان دعاوی کی شان و منظمت دیکھئے جو حضرت اقدس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کئے۔جیسا کہ آپ خود فرماتے ہیں، اسے من نه از خود ادعائے کردہ ام : امر حق شد اقتدائے کردہ ام دور ثمین (۳۳) حکم است از آسمان بزمین می رسانش ، گریشنوم نگوش آن را کی بریم اور ثمین م جیسے :- اور دوسری طرف انکسار کا کمال دیکھئے جس کا اظہار آپ ہمیشہ متواتر فرماتے رہے گر پیچو خاک پیش تو قدرم بود چه باک ہے بچوں خاک نے کہ از خس و خاشاک کمترم لطف است و فضیل او که نو از دوگز زمین : کرم نه آدمی صدف استم نه گوهرم در تمین صبا) -۲- نگاه رحمت جانا عنایتها بین کرد است وگرنہ چوں منے کے یا با شد و عات تاران ور تمین ما اے ترجمہ : میں نے اپنے آپ یہ دعوی نہیں کیا ، بلکہ اللہ تعالی کا حکم ہوا تو اس کی پیروی کی ہے۔کے ترجمہ : یہ آسمانی حکم ہے جو یں راہل زمین کو پہنچا رہا ہوں۔اگر یں سنوں اور آگے نہ پہنچاؤں تو اسے کہاں سے جاؤں؟ کے ترجمہ: اگر تیرے نزدیک میری قدر خاک جیسی ہی ہو توکیا مضائقہ ہے کیونکہ خاک تو کیا یں تو کوڑے کرکٹ سے بھی حقیر ہوں۔یہ تو محض اس کا فضل و کرم ہے کہ نوازتا ہے ور نہیں تو ایک کیڑا ہوں نہ کہ آدمی اور محض سیکسی ہوں نہ کہ موتی۔کے ترجمہ یہ تو جنوب کی نظر کرم نے مجھ پر عنایات کی ہیں، ورنہ مجھ جیسا انسان یہ یکی اور نیک بختی کیسے حاصل کر سکتا ہے ؟