درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 38 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 38

امکان ہو لیکن زندگی تو کبھی موت نہیں بن سکتی کیونکہ یہ دو متضاد صفات ہیں۔صرف زندہ چیزیں مُردہ ہو سکتی ہیں۔ایسا ذ ہنی انتشار الفاظ کو معنی پر ترجیح دینے کا نتیجہ ہے۔اس مصرع میں لفظ بلک (جو بلکہ کا مخفف ہے اس) کا استعمال بھی بے موقعہ ہے۔کیونکہ یہ حرف اضراب ہے جو کسی بات کو ترقی دینے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔اور یہاں ایسی کوئی صورت نہیں۔اگر اس شعر کے کچھ معنی بن سکتے تو یہاں حرف عطف آنا چاہیے تھا۔جیسے موجودات زندگی سے زندہ ہیں۔اور زندگی تیرے وجود سے زندہ ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ زندگی سے زندہ ہونے یا زندگی کے زندہ ہونے کا کچھ بھی مفہوم متصور نہیں ہوسکتا۔یہ بہت ہی دور از کار تخیل ہے۔شیخ سعدی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔آپ فرماتے ہیں : بنام جہاندار جہاں آفرین به حکیم سخن در زبان آفرین خُداوند بخشنده دستگیر : کریم خطا بخش پوزش پذیر عزیزے کہ ہر گز درش سر بافت به بهر در که شد هیچ عورت نیافت سیر پادشان گردن فرار به به درگاه او بر زمین نسیانه نه گردن کشان را بگیرد بطور به نه عذر آوران را براند بجور و گر خشم گیرد بگر داید زشت به چو باز آمدی ماجرا در نوشته 10۔ترجمہ :۔اے جان بخشنے والے بادشاہ کے نام سے شروع کرتا ہوں ، وہ ایسا دانا ہے جس سے زبان کو قوت گویائی بخشی۔وہ بخشنے وال اور ستگیری کرنیوالا مالک ہے خطاؤں کا بخشنے والا اور نذر کو قبول کرنیوالا مہربان ہے۔وہ ایسا حنان تری ہے کہ میں کسی نے اسکی دروازہ سے منہ موٹا ہو جس کسی کے دروازہ پر گیا سے کچھ بھی عورت ن لی۔گردن اڑانے والے بادشاہوں کا سراسکی بارگاہ میں حاجتمندی کی زمین پر جھکا ہوا ہوتا ہے۔وہ سرکشی کرنے والوں کو فور نہیں پڑتا اور نہ رد کرنیوالوں کوسختی سے اپنی بارگا سے نکالتا ہے اگر وہ کسی کے بڑے کردار پر گرفت کرتا ہے۔تو جب وہ اس کام سے باز آجائے تو معالہ سمیٹ دیتا ہے :