درثمین فارسی کے محاسن — Page 27
۲۷ بہت کم استعمال کئے ہیں۔اور اگر کہیں بھی گئے ہیں تو وہاں صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ یہ الفاظ براہ راست محبوب حقیقی کے لئے ہیں کیسی مجازی معشوق کے پردہ کے اندر سے ہو کر ذات باریتعالی تک نہیں پہنچتے۔- ایک اور خصوصیت جو حضرت اقدسکی قادرالکلامی پر شاہد ناطق ہے۔یہ ہے کہ جب کسی اہم امر کا بیان شروع کرتے ہیں۔تو اس کی تائید یا تردید یا وضاحت کے لئے دلیل پر دلیل لاتے چلے جاتے ہیں اور صوابدید میں کبھی بلفظ تشبیہ، کبھی بلفظ استعارہ کبھی لفظ مترادف اور کبھی بلفظ حقیقت اس کی تشریح فرماتے ہیں۔اسے علم بیان میں تصریف یا تعطیل کہتے ہیں۔٩ حضرت اقدس اپنے بعض شعر مختلف تعظموںمیں کئی بار لائے۔کیونکہ آپ کا مقصد اپنی قابلیت کا اظہار نہیں تھا کہ ہر موقعہ پر نیا شعرا تے بلکہ غرض یہ تھی کہ دین تقسیم کی تائید اور توضیح کے لئے جو امور ضروری ہیں وہ سامع کے ذہن نشین ہو جائیں۔لہذا اگر کوئی شعرکسی موضوع پر یہ غرض پوری کرتا تھا تو اُسے بار بار لانے میں آپ نے تامل نہیں کیا۔۱۰۔بہت سے مصنفین نے مغربی فلسفہ کے زیر اثر اسلامی عقائد کو مشتبہ سمجھ کر ان کے متعلق معذرت کا وتیرہ اختیار کر لیا تھا۔اور ان عقائد کی دور از کار عجیب و غریب تاویلیں کرنے لگے تھے۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ دعا کی قبولیت ، فرشتوں ، جنت دوزخ اور آخرت کے بھی منکر ہوگئے تھے حضرت اقدس نے پورے وثوق اور جرات کے ساتھ تمام اسلامی عقائد پر اپنے لازوال ایمان کا گلا گھلا اظہار فرمایا اور موثر براہین اور دلائل سے تمام صحیح عقائد کی تبلیغ کی۔۔اسی طرح حضرت اقدس نے اس درثمین میں وحی والہام کے امکان اور اس کی ضرورت کے بیان پر بہت زور دیا ہے۔کیونکہ اس زمانہ کی گراوٹ اور بے راہ روی کی ایک بڑی وجہ مکالمہ - ہے :۔ان اصطلاحات کی تعریف آگے زیرعنوان علم بیان ملاحظہ فرمائیے۔(ص ہذا ) :