درثمین فارسی کے محاسن — Page 26
۲۶ ہے۔نعت میں بھی دوسرے اساتذہ آنحضرت صلی اللہعلیہ سلم کی بنیادی خوبی اور برتری امینی آپ کا ذات باری تعالیٰ سے والہانہ عشق اور آپ سے اللہ تعالیٰ کی محبت کے ذکر کو عموما نظر اندار کر گئے اس بارہ میں ان کے کلام میں کہیں کہیں اشارے تو ملتے ہیں لیکن بالاستیعاب اس اہم ترین خوبی کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔البتہ حضرت مسیح موعود نے اپنے منظوم کلام میں بھی اور منشور کلام میں بھی اس دو طرفہ محبت کا بار بار ذکر فرمایا ہے اور بڑے ہی لطیف پیرایوں میں فرمایا۔- دوسرے اساتذہ مطالب کی توضیح کے لئے اپنے کلام میں قصے کہانیاں سے آتے ہیں۔لیکن حضرت اقدس نے حکایات کی بجائے مخالفین کے اعتراضات کے جوابات کا التزام کیا۔اور اسی ضمن میں اہم عقائد کی تشریح اور وضاحت فرمائی۔4 - حضرت اقدس نے اپنی لمبی نظموں کو کسی خاص مضمون تک محدود نہیں رکھا۔بلکہ احیائے اسلام کے لئے جن جن موضوعات پر روشنی ڈالنے کی ضرورت تھی۔انہیں قریبا ہر ملی نظم میں جگہ دی۔مثلاً خدا ، رسول ، فرشتوں ، انہی کتابوں اور آخرت پر ایمان۔خدا اور رسول کی محبت قرآن مجید کی پیروی مامورین الہی کی شناخت، انہیں قبول کرنے کی ضرورت، اعمال صالحہ ، اصلاح اخلاق تبلیغ ہدایت، ہمدردی خلائی ، عرفان الہی کے حصول کے ذرائع۔غرض آپ کی لمبی نظمیں قریبا ہر ضروری مضمون پر حاوی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ شراب و شاہد کا ذکر کئے بغیر محبوب حقیقی کا بیان ممکن نہیں۔جیسا کہ غالب بہلوی نے بھی کہا ہے سے ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر لیکن یہ ایک دھوکا ہے۔اپنے نفسانی جذبات کے اظہار کو محبوب حقیقی کا ذکر قرار دینا ایک بہت بڑا فریب ہے۔یہی وجہ ہے کہ شعراء اور ان کے متبعین (الا ماشاء اللہ، عموماًا شراب و کباب اور دوسرے رزائل پر فریفتہ نظر آتے ہیں لیکن حضرت اقدس نے اول تو ایسے الفاظ