درثمین فارسی کے محاسن — Page 274
۲۵۴ دیا اور فرمایا : سه مهر او با شیر شد اندر بدن : جان شد با جان بد خواهد شدن حافظ نے صرف اتنا کہا تھا کہ تیری محبت دودھ کے ساتھ داخل ہوگئی تھی اور جان کے ساتھ نکلے گی۔مگر کیوں ؟ حافظ نے کوئی وجہ بیان نہیں کی لیکن حضرت اقدس اس کی دلیل لائے کہ وہ جان کے ساتھ کیوں نکلے گی، اس لئے کہ وہ جان بن گئی ہے۔اس لئے وہ جان کے ساتھ ہی نکلے گی۔جان کے نکلنے سے پہلے اس کا جدا ہونا ممکن نہیں۔ایک اور شعر دیکھئے اور غور فرمائیے کہ حافظ کی وجود اور دل والی بات کو کہاں تک پہنچا دیا ہے۔فرمایا : تاد بود است خواهد بود شات دردم به دلم دوران خون درد به تو درد داشت دور ثمین من) حافظ کے اس شعر کا ذکر قبل انہیں تو ارد کے ذکر میں ہو چکا ہے۔(صائل ہذا )۔ز باغ وصل تو یا بد ریاض نوران آب زتاب هجر تو دارد شرار و نرخ تاب حضرت اقدس نے دوسرے مصرع کے مفہوم کو یوں ادا فرمایا : سے دوزخ کے عذاب پر چون خم : اصل آن بست لا يمه دور ثمین ۳۲۵) حافظ نے اپنے قول کی دلیل پیش نہیں کی حضرت اقدس قرآن شریف سے اس کی سند لائے ترجمہ اسکی محبت جو دودھ کے ساتھ میر جس میں ال ہوئی تھی، وہ جان بن گئ ہے اس لئے جان کےساتھ ہی نکلے گی۔سے ترجمہ اب تک میرا وجود قائم ہے تیر عشق میسر ل میں قائم ہے گا اور بینک میسر دل میں دوران خون جاری تیری ہی ادا پر بھروستا سے ترجمہ: وہ دوزخ جوخم کی طرح غذاب سے پر ہے ، اس کی وجہ یہی ہے کرخدان سے کلام نہیں کرے گا۔