درثمین فارسی کے محاسن — Page 273
حضرت اقدس نے اسی زمین میں مسلمانوں کی زبوں حالی پر نوح کھا جس کا پہلا مصرع یہ ہے : (دیکھیئے ص ہدا) : سے سزد گر خوں بہار دیده برایل دیں پر پریشان حالی اسلام و قحط السلمین ور ثمین (۱۵) ۱۷- حضرت اقدس نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں زیادہ ترشیخ سعدی کے اشعار ہی نقل کئے ہیں۔اور اخذ بھی زیادہ تر شیخ کے کلام سے ہی کیا ہے۔اور اس سے بہتر فائدہ اٹھایا ہے -IA مثلا شیخ کا ایک شعر ہے : سے ابرو با دو مه و خورشید و فلک در کار اند تا تو نا نے بکف آری و غفلت نخوری کی دیکھیئے حضرت اقدس کس خوبصورتی سے اسے اپنے کام میں لائے ہیں : آسمان مه و خورشید شهادت دادند تا تو تکذیب زنادانی و حفلت نکنی بله - اسی طرح حافظ کی ایک غزل کا شعر ہے : سے ور ثمین ۳۵) عشق تو درو بودم و هر تو در دلم ؛ با شیر در درون شد و باجان به شوره جب عشق تو در وجودم" کے الفاظ موجود ہیں، تو ساتھ ہی مہر تو در دلم " کے الفاظ زائد ہیں۔ایک ہی مفہوم کا بے جا تکرا ر ہے حضرت اقدس نے الفاظ کو مختصر کر کے فصاحت کو بڑھا ے ترجمہ دیندار لوگوں کےلئے مناسب ہے کہ بھی انکھیں اسلام کی پریشان حالی اومسلمانوں کے تم پر خون کے نو نہائیں۔کے ترجمہ : بادل ہوا ، چاند سورج اور آسمان سب کام میں لگے ہوئے ہیں، تا تو روٹی حاصل کر کے غفلت میں نہ کھائے۔کے ترجمہ : آسمان، چاند اور سوج شہادت دے رہے ہیں، تا تو نادانی اور غفلت سے تکذیب نہ کر سے۔کے ترجمہ : تیرا عشق میرے وجودمیں اور تیری محبت میرے دل میں دورہ کے ساتھ داخل ہوئی تیار جانی تر نکلے گی۔1