درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 250 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 250

۲۵۰ اسے خوب نبھایا۔متعدد نقادوں نے امیر خسرو کے خمسہ کو نظامی کے خمسہ سے فائق قرار دیا ہے۔یا کم از کمہ کسی نے اس کو گرایا نہیں۔لیکن عبید کو اس میں بھی کیڑے نظر آگئے محض اس لئے کہ امیر خسرو ایرانی نہیں تھے۔چونکہ بعض نا سمجھوں نے حضرت اقدس پر بھی سرقہ کا اعتراض کیا ہے، اس لئے مناسب ہے کہ اخذ اور سرقہ کے تمام پہلوؤں کی وضاحت ہو جائے۔علم بیان کی کتب اور شعراء کے تذکروں میں اس بارہ میں سیر کن بخشیں موجود ہیں۔خاکسار صرف چند اقتباسات پیش کرتا ہے۔چنانچہ مولوی امام بخش صاحب صہبائی اس فن کی مشہور کتاب حدائق البلاغت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :۔" شعر کی چوری یہ ہے کہ دوسرے شاعر کے شعر کا مضمون فقط لے کر شعر میں باندھ لیں۔یا اس کا شعر اپنی طرف منسوب کر لیں۔اور یہ کئی طرح پر ہے۔اس کا حال تفصیل آوے گا، معلوم کیا چاہیے کہ بیان کرنا اغراض مختلفہ کا درمیان شعرا کے شائع ہے۔مثلاً کسی کی مدح ، سخاوت یا شجاعت کی یا ہنجو سجل یا نا مردی کی۔یہ چوری میں داخل نہیں۔یعنی اگر کسی نے کسی کی سخاوت یا شجاعت کی مدح کی۔پھر دوسرے نے بھی انہیں میں سے کسی چیز کی مدح کی تو یہ نہیں کہیں کے کہ ائس نے اس پہلے شاعر کا مضمون چرا لیا۔کس واسطے کہ یہ امرعادت میں داخل ہوگی ہے۔انہیں چیزوں کی مدح بیان کریں گے فصیح اور غیر فصیح اس میں شریک ہے۔لیکن وہ امور جوان اغراض پر دلالت کریں ، مثل استعارہ اور تشبیہ اور کنایہ۔البتہ ان کا سرقہ ہو سکتا ہے۔یعنی اگر ایک شخص نے ایک تشبیہ یا استعارہ اختراع کیا اور دوسرے نے بھی اسی کو استعمال کیا تو کہ سکتے ہیں کہ اپنی پہلے شاعر کی تشبیہ یا استعارہ کو پڑا لیا۔مگر بعض تشبیہیں یا استعارے ایسے ہیں کہ سب شعرا میں شائع ہو گئے۔مثلاً