درثمین فارسی کے محاسن — Page 251
۲۵۱ آنکھہ کی تشبیہ نرگس یا زبان کی سوسن یا رخسار کی گل یا ماہ سے اور بہادر کی تشبیہ شیر سے یا سخی کی حاتم سے اور علی ہذا القیاس۔اس قسم کی تشبہات کا استعمال سرقہ میں داخل نہیں۔جب معلوم ہو چکا، اب جاننا چاہیئے کہ شعر میں سرقہ دو قسم پر ہے۔ایک ظاہر اور دوسرا غیر حاضر۔اور سرقہ ظاہر کئی قسم پر ہے۔قسم اول کر دوسرے کے شعر کو بغیر تغیر کے اپنا ٹھہرائیں۔اسے نسخ اور انتحال کہتے ہیں۔یہ سرقہ کمال معیوب ہے۔اور اگر کوئی ایسا موزوں کرے کہ وہی بعینہ دوسرے کے دیوان میں نکل آئے۔اور اس کہنے والے کو اصلاً اس پر اطلاع نہ ہو۔تو اس کو توار رکہتے ہیں۔نہ سرقہ اور یہ کمال تیزی فکر پر دلالت کرتا ہے۔قسم دوسری یہ ہے کہ کسی مضمون کو تمام الفاظ یا بعضے الفاظ کو لے کر اس کی ترتیب بدل دیں۔اگر اول سے اس کی ترتیب بہتر ہوگی ، البتہ طبائع کے مقبول ہو جاوے گی جیسے (مثالیں حذف کردی گئی ہیں کیونکہ وہ اردو زبان میں ہیں۔ناقل) قسم تیسری یہ ہے کہ دوسرے کا مضمون لے کر اور الفاظ میں باندھ لیں۔جیسے۔اور سرقہ غیر ظاہر بھی کئی قسم پر ہے۔اول یہ ہے کہ معنے دو شعر کے آپس میں مشابہت رکھتے ہوں۔جیسے۔۔۔قسم دوسری یہ ہے کہ شعر اول میں ادعا خاص ہوا اور دوستر میں عام ، جیسے۔۔۔۔قسیم تیسری یہ ہے کہ مضمون ایک جائے سے دوسری جائے میں منتقل کریں ، جیسے۔۔۔قسم چوتھی یہ ہے کہ دوسرے شعر کے معنے پہلے شعر کے معنے کے ضد ہوں، جیسے۔۔۔۔قسم پانچویں یہ ہے کرکسی او مضمون سے کچھ لے کر اور چیزیں ایسی بڑھا دیں کہ بہ نسبت اول کے زیادہ لطیف ہو جائے جیسے۔جانا چاہیے کہ جب یہ معلوم ہو جاو ہے کہ دوسرے شخص نے پہلے شعر میں اس مضمون کو چرا لیا ہے ، اس وقت اس پر سرقہ کا حکم کریں گے۔والا ہوسکتا ہے کہ وہ بطریق توارد کے ہو۔اور ان مثالوں کے استعار کا بھی یہی حال ہے۔اور اسی بحث کی