درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 225 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 225

۲۲۵ کسی من کو بیم قرارد سے کر اس کوئی کام کروانا یا تخیل نہیں۔لیکن یہاں جو مفہوم پیدا ہوگیا ہے کہ تمہاری تمام کوشش رای کام تخم حق کا شستن میں لگی رہے۔یہ نئی بات ہے۔(۹) ہر کہ ہے اور د قدم در بحر دیں کرد در اول قدم گم معبر ہے و تمین حش) غور فرمائیے کہ اس خیال کو کہ انسان انحضرت صل اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بغیر ساحل مراد پر نہیں پہنچ سکتا۔کیسے انوکھے انداز میں پیش کیا گیا ہے ، یوں تو ہر شخص اپنی جگہ یہی کوشش کرتا ہے کہ دریائے دین میں داخل ہوتے وقت صحیح جگہ پر قدم رکھے لیکن اگر وہ آنحضرت کے نقش قدم کو اپنا رہبر نہیں بناتا۔تو اول قدم میں ہی گمراہی کے گڑھے میں جاگرے گا سے (۱۰) زندگی در مردن و بجز و بکاست : هر که افتاد است او آخر نجاست سے در ثمین ص۲۳) نفساتی لحاظ سے بھی یہ نکتہ بڑا اہم ہے۔اور اس میں جدت بھی ہے یعنی جو بھی گرے گا آخر اُٹھے گا۔(۱۱) لیکن آ وے حسین از غافلان ماند نہاں : عاشق باید که با انداز پیش نقاب کے در تمین ها ) بالکل نیا خیال ہے۔غافلوں کے لئے نہیں۔بلکہ اپنے عاشقوں کے لئے محبوب اپنے چہرے سے نقاب اٹھاتا ہے۔سے ترجمہ :۔جس کسی نے اس کے بغیر دین کے دریا میں قدم رکھا اپنی پہلے قدم میں ہی گھاٹ کھو دیا۔کے ترجمہ :- زندگی مرتے ، انکسار اور گریہ و زاری میں ہے ، جو گر پڑا وہی آخر اُٹھے گا۔کے ترجمہ :۔لیکن وہ رخ زیبا غافلوں سے چھپا رہتا ہے، سچا عاشق چاہیے تا کی خاطر نقاب اٹھایا جائے۔