درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 224 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 224

گرچه سوم کن کس لئے الحاد وصول ہوں اے احمد نے بینم در عرش عظیم در زمین ها ) مصراع اول سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس کو خود بھی یہ حساس تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو خدا کا سب سے بڑا عرش قرار دینا ایک اچھوتا تخیل ہے لیکن کتنا لذیذ تخیل ہے اور حقیقت پر مبنی ہے۔بھلا کوئی اور انسان ہے جو ذات پاک کی شان کو (آنحضرت جتنا سمجھنا تو بہر حال ناممکن ہے) اس کے قریب قریب بھی سمجھ سکتا ہو۔کے شوی عاشق رخ یاری تا نه بر دل رخش کنند کار سے (۶) ور ثمین (۳۳) کار کے لفظ کا نیا استعمال ہے منقش کپڑے یا کاغذ پر نقش و نگار بنانے کو بھی کار دکام) کہتے ہیں پس جب تک اس کا چہرہ زیب کسی کے دل کی تختی پر اپنی تحریر اپنے نقش ونگار، اپنے اثرات پیدا نہ کرے کوئی کیس طرح اس کا عاشق ہو سکتا ہے۔(۷) پوصوف صفا در دل آویختند : مداد از سواد عیون ریختن در ثمین ص) دل کو دوات قرار دے کر اس میں صفائی کا صوف ڈالنا نیا تخیل ہے۔اور پھر اس میں آنکھوں کے اردگرد سے آنسو جمع کرکے ان کی روشنائی ڈالنا بھی اچھوتا خیال ہے یہ (۸) کاش جانت میں عرفان داشت : کاش سعیت تخم حق را کاشت کی در ثمین - ے ترجمہ : اگر کوئی شخص مجھے کفراور گراہی سے ہی منسوب کے اگر مجھے معلم کے دل جیسا اورکوئی عرش الہی نظر نہیں آتا۔ے ترجمہ : تو کس طرح کسی چہرہ پر فریفتہ ہو سکتا ہے۔جب تک وہ چہرہ تیرے دل پر کچھ کام نہ کرے۔سے ترجمہ : جب دل کی دوات میں پاکیزگی کا صفوت ڈالتے ہیں، تو سیاہی آنکھوں کے اردگرد سے ڈالتے ہیں۔کے ترجمہ : کاش تیر روح کو دل کو نفرت اپنی کی رغبت ہوتی ، کاش تیری کوشش صرف سچائی کا بیج ہوتی۔