درثمین فارسی کے محاسن — Page 226
(۱۲) راه خود بر من کشود آن داستان : دانمش زانسان که گل را با عنباله در ثمین ۲۳۵) واقفیت اور پہچان کے لئے پھول اور باغبان کی مثال پیش کرنا نئی بات ہے۔(۱۳) بتنالم بر درش توان سای که نالید بوقت وضع حملے بار دار سے ور ثمین ۲۳) درد کی شدت کے لئے وضع حمل کی مثال دینا بھی ندرت ہے۔(۱۳) منکر از حسنش ہے دارم خبر ؛ جاں فشانم گرد ہر دل دیگر تے ور ثمین منه) جذبہ رشک کے ماتحت محبوب کی راہ میں جان کی قربانی دینا نیا خیال ہے۔وقس علی ہذا۔کہاں تک مثالیں پیش کی جائیں۔حضرت اقدس کے تو اکثر اشعار میں کسی نہ کسی قسم کا اچھوتا پن موجود ہے۔۵ سہل ممتنع۔یعنی ایسا شعر جو بظاہر بالکل سہل معلوم ہو لیکن کسی دوسرے شاعر کے لئے دیسا شعر کہنا ممکن نہ ہو۔پیچھے سلاست کے بیان میں کلام کی دو اہم خوبیوں کا ذکر کیا گیا تھا دیکھئے منها بدا)۔ایک یہ کہ ایسا کلام سن کر سمع فوراً کہ اٹھے کہ سچ کہا۔دوسرے یہ کہ کلام کی سادگی کی بنا پر ہ شخص یہ سمجھے کہ میں بھی ویسا کلام کہ سکتا ہوں، لیکن جب کہنے کا قصد کریں تو مجز بیان بھی عاجزہ آ جائیں۔ترجمہ : اس محبوب نے خود اپنا راستہ میرے لئے کھول ، میں اسے اس طرح پہچانتا ہوں جیسے پھول کو باغیان۔سے ترجمہ : میں اس کے دروازہ پر اس طرح روتا ہوں جس طرح بچہ جنتے وقت حاملہ عورت روتی ہے۔سے ترجمہ : میں اس کے حسن سے چھی طرح باخبر ہوں، اگر کوئی دوسرا اسے دل دیگا تومیں اس پر اپنی جان شمار کردوں گا۔