درثمین فارسی کے محاسن — Page 195
۱۹۵ لے زندگانی چیست جان کردن براه تو فیدا + رستگاری چیست در بند تو بودن میدوار اضمار امر در مورد نهی نہی کے مقام پر امر کا اشارہ جیسے سے A ور تین ) " بگو ہر آنچہ بگوئی پو خود نمی دانی : که ساکنان درش راچه اجتبا باشد دور ثمین ) تو خواہی خسپ یا خود مردہ سے باش 4 که بر ما نیست جز ہشیار کردن نی د در ثمین (۳۷) اعتراض جسے حشو یا اشباع بھی کہتے ہیں۔اس کا ضابطہ یہ ہے کہ کلام ختم ہونے سے پہلے ایسا لفظ یا الفاظ لائیں جیسے غیر مفہوم مکمل ہوجاتا ہو۔یہ ایادی آخر کی بجائے درمیان میں بھی ہوسکتی ہے، اگر کوئی حشو کلام کو رتبہ بلاغت سے گراد سے ایعنی اس کا کچھ فائدہ نہ ہو تو اسے شوقیح کہتے ہیں اور اگر حسن کلام کی ایزادی کا موجب ہو تو اسے حشو ملیح کہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کے کلام میں حشو قبیح کی مثال تلاش کرنا ہے کا ر ہے حشو ملیح کے لئے دیکھئے اسے زندگانی چیست جان کردن براه تو فدا : رستگاری چیست در بند تو بودن صید والله JAY در ثمین ) لط ترجمہ: زندگی کیا چیز ہے ؟ تیری راہ میں جان کو قربان کردیا، آزادی کیا ہے ؟ تیری قید میں شکار کی طرح رہنا۔کے ترجمہ: تو جو چاہے کہتارہ کیونکر تجھے یہعلم ہی نہیں کہ اس کے دروازہ پر پڑے رہنے والوں کا کیا کرتیہ ہوتا ہے، تو خواہ سویا رہ یا مر ہی جا، ہمارے اوپر تجھے ہشیار کرنے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں۔کے ترجمہ : زندگی کیا ہے تیری راہ میں جان قربان کرنا ، آزادی کیا ہے؟ تیرا شکار ہوکر تیرے قبضہ میں رہنا۔