درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 194 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 194

نم 19 انگاری یعنی ایساسوال جس کا جواب لاز ما نفی میں ہو۔جیسے ہ نے بزیر زمین کلام حندا : تا بگوئی کہ چوی خرم آنجا چوں نہ قعر زمین برون آرم : خود چنیں طاقتے نمے دارم۔در همین منا) کے توان کردن شمارہ نوبی عبدالکریم : آنکه جای داد از شجاعت برطرد مستقیم و تامین ) کجا غوغائے شان بر خاطر من وحشتے آرد کر صادق بزدلی نبود و گر بلند قیامت را ; دو تین منشا ) ( توقف : حکم سامعین کی عقل کو اپیل کرتا ہے کہ ذرا ٹھہر کہ غور کریں۔اس کی مرض پوری توجہ حاصل کرنا ہے۔جیسے۔پینچ دانی کلام رحمان چیست؟ و آنکه آن خود بیافت آن مه کیست آن کلامش که نور یا دارد : شک ریب از قلوب بردارد رورین است ا ترجمہ : نہ خُدا کا کلام زمین کے نیچے ہے ، کہ تو کہے کہ میں وہاں کیسے گھسوں۔اسے میں زمین کی گہرائیوں سے کیسے باہر نکالوں ،مجھ میں تو ایسی طاقت نہیں ہے۔عبد الکریم کی خوبیاں کس طرح گنی جاسکتی ہیں، جنسی دلیری کے ساتھ صراط مستقیم پر جان دی۔ان کے شور سے میرے دل میں کہاں گھبراہٹ پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ راستباز آدمی بزدل نہیں ہوتا، خواہ وہ قیامت بھی دیکھ لے۔ہ ترجمہ: تجھے کچھ خبر ہے کہ رحمان کا کلام کیا چیز ہے ، اور وہ چاند کو نسا ہے جس نے سورج کو پایا ہے۔رحمان کا کلام وہ ہے جس میں نور ہی نور ہے ، وہ دلوں سے شک شبہ کو دور کر دیتا ہے۔