درثمین فارسی کے محاسن — Page 196
194 اس شعر میں میدوار کا لفظ حشو ہے کیونکہ فقرہ در بند تو بودن پر ختم ہو جاتا ہے لیکن کیا ہی حسین اور لذیذ حشو ہے کیسی کے قبضہ میں انسان اتفاقیہ بھی آجاتا ہے۔کوئی ظالم بھی گفتار کر سکتا ہے لیکن جو شخص کسی کی نگاہ ناز کا شکار ہو جائے ، یہ قید صرف اور صرف اسی کو پیاری ہے اور وہی اُسے رستگاری سمجھ سکتا ہے۔نفرض شکار ہونے کی تخصیص ہے تو حشو ، لیکن اس نے شعر کی بلاغت میں کتنی اینزادی کر دی ہے۔جامع الحروف یعنی ایک ہی لفظ کو شر میں دو دفعہ لانا۔اس طرح کہ شعر کے مفہوم میں کوئی خاص اعلیٰ درجہ کی خوبی پیدا ہو جائے۔جیسے سے تو به عقل خویش در کبر شدید و ما خدائے آنکر او عقل آفرید دور ثمین ) ایک ہی چیز ہے لعینی منتقل۔اس کے متعلق مختلف افراد کی سوچ کا فرق کیسی خوبصورتی سے نمایاں کیا ہے۔ایک شخص کو عقل ملی تو اس نے اُسے تکبر کا ذریعہ بنالیا۔اور خدا سے سے دُور ہو گیا۔دوسرے کو ملی تو وہ شکر گزار ہو کر اللہ تعالے کا فدائی بن گیا۔کے ترجمہ تو اپنی عقل پر نازاں ہوکر سخت تشکر ہوگیا ہے ، اور ہم اس پر دل میں جس نے خود قتل کو پیدا کیا ہے۔