درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 184 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 184

۱۸۴ گویا دل کو ایک الگ ہستی قرار دیا۔مبالغہ کسی وصف کو شدت یا ضعف میں اس حد تک پہنچا دیں ، کہ اس حد تک پہنچنا بھید یا محال ہو ، تا سننے والے کو یہ گمان نہ رہے کہ اس وصف کی شدت یا ضعف کا کوئی مرتبہ باقی ہے۔اس کی تین قسمیں ہیں : -1 تبلیغ یعنی ادعائے مذکور عقلا و عادہ ممکن ہو۔جیسے ے دریغا بگرد هم صد جان درین راه نباشد نیز شایان محمدالی د در ثمین بنالم بر درش ندای سان که نالد بوقت وضع حملے باردار تے ما در ثمین (۲۳) آن عنایت با کر جو ازل دارد بد و کسی خوابے ہم ندید وی آی اند دیار - اغراق - ادعا عقلا ممکن عادة ممتنع جیسے سے در تمین ) الا بتانه تابی سر از روئے دوست : جہانے نیرز دبیک موئے دوست در ثمین منت ) آفتاب و مه چه می ماند بد و در دلش از نور حق صد نیر سے در ثمین صن لے ترجمہ : اگر اس راہ میں سو دفعہ بھی جانی دوں، افسوس تب بھی یہ بات محمد کی شان کے شایاں نہیں ہوگی۔سے ترجمہ : میں اس کے دروازہ پر اس طرح روتا ہوں، جس طرح حاملہ عورت بچہ جنتے وقت روتی ہے۔سے ترجمہ وہ مہربانیاں جو محبوب از لی اس پر فرماتا رہتا ہے، وہ کسی نے دنیا میں خواب میں بھی نہیں دیکھیں۔که ترجمه خبردار دوست کی طرف سے منہ نہ موڑنا ، سارا جہان دوست کے ایک بال کی برابری نہیں کر سکتا۔چاند اور سورج اس کی مانند کیسے ہو سکتے ہیں، اس کے دل میں تو خدائی نور کے سینکڑوں سورج ہیں۔