درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 185 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 185

IAA غلو جو عتلا وعادة ممتنع ہو جیسے : خر بود اندر حماقت بے نظیر : لیکن ایشان را بهر موصد نورسے را (در ثمین (۲۵) حسن التعلیل یعنی کسی وصف کے واسطے کسی شے کو علت ٹھہرا دیں اور وہ در حقیقت اس کی علت نہ ہو جیسے : مومن را نام کا فرمے نہی با کاندوم گر مومنی با این خیال در ثمین (ص) کے کہنے سے کوئی کا فریا مومن نہیں ہو سکتا۔حضرت اقدس اس شرط پر اپنے آپ کو کا فر قرار دیتے ہیں کہ مخاطب حضرت اقدس کو کا فرقرار دے کر بھی مومن رہ سکتا ہو ؟ یہ غائبا اس حدیث قدسی کی طرف اشارہ ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا خود کا فریبن جاتا ہے۔مذہب کلامی معینی کلام دلیل اور برہان پرمشتمل ہو۔جیسے - لیکن انساں را بحق روئے نبود :: پیش کر کے گریڈ میشے چہ سود ہے دور مین ۲۳) هست آن عالی جناب بس بلند و بہر وصلش شور با باید فکت ہے ور تین مت) ل ترجمہ : بیوقوفی میں گدھے کی کوئی مثال نہیں، لیکن ان کے ایک ایک بال میں سوسو گدھے ہیں۔نے ترجمہ : تو مومن کا نام کا فر رکھتا ہے ، اگر تو اس عقیدہ کے باوجود مومن ہے ، تو میں واقعی کافر ہوں۔کے ترجمہ : لیکن سچائی کی طرف اُن کا رخ ہی نہیں تھا بھیڑیے کے آگے بھیڑ کے روتے کا کیا فائدہ ؟ کے ترجمہ : وہ بارگاہ بہت بلند ہے، لہذا اس کے وصل کے لئے بہت آہ و بکا کرنا پڑتا ہے۔