درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 161 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 161

190 (۳) بہر حاجت گشت حاجت روا به کشور از ترحم دو دست و عالی ور ثمین ص ) ہاتھ کسی چیز کے دینے کا ذریعہ ہیں۔لہذا فرمایا کہ اس نے تو اپنے انعامات دینے کے لئے دونو ہا تھ کھول رکھے ہیں سے یکدم از خود دور شو بهر خدا : تا مگر نوشی تو کاسات لقاه در ثمین ) کا سہ بھی مشروب دینے کا آلہ ہے پس اگر تو خُدا کی خاطر اپنی خودی کو چھوڑ دے، تو تو خدا کا دیدار حاصل کر سکے گا۔کاسات کا لفظ بصیغہ جمع لانے سے مراد یہ ہے کہ تجھے بار بار دیدار الہی حاصل ہوگا سے (۳) عشق است که بر خاک مذلت غلطاند به عشق است که براتیش سوزان بنشانده (۵) دور ثمین (۱۲۵) خاک خستہ حالی اور ذلت کی مظہر ہے۔پس فرمایا کہ عشق ذلت کی انتہا تک پہنچاتا ہے سے گیر جسم خود ، یکی برباد : چوں نے گردو از حسدا آبادی + ور تین ۳۵۳) کلبه تنگی، بے سروسامانی اور بے مائیگی کا مظہر ہے۔اس میں تھی شان و شوکت پیدا ہوسکتی ے ترجمہ : - تیری ہر ضرورت کا وہ خود متکفل بنا۔اور رحم کر کے اپنی سخاوت کے دونو ہا تھ کھول دئے۔کے ترجمہ :۔خدا کی خاطر اپنے نفس سے بجلی کنارہ کشی اختیار کر لے۔تا تجھے اس کے دیدار کے پیالے پینا نصیب ہوں۔سے ترجمہ :۔دمشق ہی ہے، جو انسان کو ذلت کی خاک پر تڑپاتا ہے عشق ہی ہے جو جلتی ہوئی آگ پر بٹھاتا ہے۔کے ترجمہ:۔اپنے جسم کی جھونپڑی کو برباد کر لے ،اگر وہ خدا کے عشق سے آباد نہیں ہوتی۔