درثمین فارسی کے محاسن — Page 162
جب اس میں خدا اسمائے اگر یہ نہیں تو اس حقیر چیز کو برباد کر دے۔دوم یہ کہ معاف ، مضاف الیہ کا متبادل ہو۔یعنی کسی خاص صفت کو نمایاں کرنے کے لئے مضاف کو بعینہ مضاف الیہ قرار دیا جائے جس میں وہ صفت زیادہ نمایاں ہو جیسے اے (۱) عقل را نمای چمن نه بود خیر : طائر منکر بود سوخته پوره ور ثمین صلا) فکر سوچ کے ناکارہ ہو جانے کی خاصیت کو نمایاں کرنے کیلئے اسے سوختہ پر پرندہ قرار دیاسے (۲) بارہا آپ خود نگار آورد : تا نخیل قیاس بار آورده (۳) دور ثمین سلام نشو و نما پانے اور پھل دینے کی اہلیت کو نمایاں کرنے کے لئے قیاس کو نخیل قرار دیا ہے بده از چشم خود این درختان محبت را با مگر رواز سے ہندت میو ہائے پریاں تورات دور ثمین مشتا اسی طرح محبت میں جو پرورش پانے کی خاصیت ہے اسے اجاگر کرنے کی خاطر محبت کو درخت قرار دیا (۳) اگر زمان شل یکدر سے جدا بشوی به متاع و ائیر ایمان زتو جدا بات ته دور تمین ) سے ترجمہ : عقل کو اس چین کی کچھ خبر نہ تھی ، اور سوچ کے پرندے کے بھی پر جلے ہوئے تھے۔کے ترجمہ : کئی دفعہ وہ محبوب خود پانی لایا، یہاں تک کہ عقل کا درخت یاد آور ہوگیا۔کے ترجمہ : محبت کے درختوں کو اپنی آنکھوں کے پانی سے سیراب کر، ہو سکتا ہے کہ وہ کسی دن تجھے شیریں پھل ہیں۔کے ترجمہ : اگر تو نکی پناہ سے ایک لفظ بھی جدا ہو جائے، توایمان کی پونجی اور دولت تجھ سے کھوئی جائے گی۔