درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 151 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 151

اها مناجات اسلامی شعراء کا یہ دستور رہا ہے کہ اپنے کلام کے شروع میں یا آخر میں مناجات ضرور سکھتے ہیں حضرت اقدس نے بھی اس بات کا التزام فرمایا ہے۔مثال کے طور پر چند شعر ذیل میں درج کئے جاتے ہیں : اسے خدا وند من گناهم بخش با سوئے درگاه خویش را هم بخش روشنی بخش در دل و جانم : پاک کن از گناه پنتانم دستانی و دلربائی کئی : یہ نگا ہے گرہ کشائی کی در دو عالم را عزیز توئی : و آنچه می خواهم از تو نیز توئی لے در ثمین ص) اسے خدا وندم به خیل انبیاء و کش فرستادی به فضل وافر ہے معرفت ہم ده چو بخشیدی دلم : کے بدہ زاں سالی که دادی ساغر نے " ے ترجمہ :۔اے میرے خدا میرے گناہ بخش دے اور اپنی بارگاہ کی طرف مجھے راستہ ہے۔میرے دل و جان میں روشنی عطا کر اور مجھے پوشیدہ گنا ہوں سے پاک کردے ، تو خوںہی داستانی اور دریائی کرو اور ایک ہی نظر ان کو میری مامان دور کرے ، دونوں جہانوں میں تو ہی مجھے پیارا ہے۔اور جو چیز کی تجھ سے مانگتا ہوں وہ تو ہی ہے اور کچھ نہیں۔کے ترجمہ :۔اے میرے خدان انبیاء کی جماعت کے طفیل جنہیں تونے بڑے بھاری فضلوں کے ساتھ بھیجا ہے مجھے اپنی معرفت بھی عطا کہ جیسے کہ تو نے دل دیا ہے، اور جیسے جام دیا ہے ، اسی طرح شراب بھی رہے۔