درثمین فارسی کے محاسن — Page 139
۱۳۹ ال نو مسلماں ، بہتر انز کا فرست : کش نبود ، از پئے آں پاک جوش جالی شود، اندوره پاکش فدا : مُردہ ہمیں است گر آید بگوش سرکہ نہ ور پائے عزیزش رود : باید گرای است، گشنیدن بادش ور ثمین صن) بعض بد باطن عیسائی مصنفین نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کثیرالازواجی پر زبان طعن دراز کی اور اسے سوامی دیانند کے چیلے چانٹوں نے خوب اچھالا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انتہائی جوش مگر پوری متانت سے ان کا جواب دیا۔چونکہ یہ جواب بہت لمبا ہے اس لئے نمونہ کے طور پر اس کا ایک اقتباس ہی پیش کیا جاتا ہے۔جس پر وضاحت کے لئے جگہ جگہ عنوانات لگا دیئے گئے ہیں۔و جو ہستی تمام دنیا کے لئے منارہ نور اور دانائی کا کام دے رہی ہو۔اس پر کوئی منصیف اور سنجید و مزاج شخص شہوت پرستی کا الزام نہیں دے سکتا۔فرمایا : سے مے دہد فرعونیاں را ہر زماں : چو ید بیضائے موسیٰ صد نشاں! آن نبی در چیشم این کوران زار ہست یک شہوت پرست و کیس شعار شرمت آید اسے سنانا چیز و پست سے نہی نام میاں شہوت پرست ے ترجمہ : و شخص مسلمان نہیں بلکہ کافروں سے بھی بدتر ہے ، جسے اس پاک نبی کے لئے غیرت نہیں۔اس کے پاک مذہب پر ہماری جان فدا ہو۔اصل خوشخبری یہی ہے اگر کبھی سن سکیں۔وہ سر جو اس کے مبارک قدموں میں کٹ کر نہ گرے ، اسے کندھوں پر لئے پھر نا نا قابل برداشت ہو مجھ ہے۔سے ترجمہ : وہ جو ہر وقت فرعون صفت لوگوں کو یہ بھیا جیسے سینکڑوں نشان دکھاتا ہے۔وہ نبجان ذلیل اندھوں کی نظر میں ایک شہوت پرست اور کینہ ور شخص ہے۔اسے حقیر و ذلیل کہتے تجھے شرم آنی چاہیئے کہ تو پہلوانوں کا نام شہوت پرست رکھتا ہے۔