درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 140 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 140

۱۴۰ این نشان شہوتی بہت اسے ٹیم : کنز رختش رخشان بود نورت دیم در شبه پیدا شود روزش کند به در خزان آید دل افروزش کند مظہر انوای آن بے چون بود ؛ در حسر دانه سر بشر افزوی بود اتباعش آی دید دل راکشا و به کش نه بیند کسی بصد سالہ جہاد اتباعش دل فروزد جان دهد : جلوه از طاقت یزداں دہر اتباعش سینه نورانی کند : با خبر انه یار پنهانی کنند منطق او از معارف پر بود به هر بیان او سرا سرور بود از کمال حکمت و تکمیل دیں : پاند بر اولین و آخریں و از کمال صورت و حسین اتم : جمله خوبان را کند زیر مت دم تابعش چون انبیاء گردد ز نور به نورش افتد بر همه نزدیک دواره ور تین مست لے ترجمہ والے کمینے کہا یہ شہوت پرست کی علامت ہے کہ اس کے چہرہ سے ازلی نور چمکتا ہے۔اگر وہ رات کے وقت باہر آئے تو اسے دن بنا دے بخزاں کے موسم میں نکلے تو اسے دل کو روشن کرنے والی بہار بنادے۔اس بے مثل ہستی (خدا) کے انوار کا مظہر ہو ، اور دانائی میں ہر انسان سے بڑھا ہوا ہو۔اس کی پیروی دل کو اس قدر انشراح بخشے جسے کوئی شخص سینکڑوں سالوں کی کوشش سے بھی حاصل نہ کر سکے۔اسکی پیری دل کو روشن کرے از زندگی بخشے خدائی طاقتوں کی تجلی دکھائے۔اگی پیروی سینہ کو نورانی کرنے اور پوشید مجو سے آگاہ کر ہے۔اس کا کلام معارف سے پر ہو۔اور اسکی تمام باتیں سراسر موتی ہوں۔دانائی کے کمال اور شریعت کو نکل کرنیکی وجہ سے اگلوں پچھلوں سب پر فائق ہو او شکل و مور کے کمال اور انتہائی حسن کی بنا پر سب سینوں کو رات کرنے ، اس وا پیر و نورانیت کی وجہ سے نبیوں کی مانند ہو جائے اور اس کی روشنی نزدیک اور ڈور سب پر پڑے :