درثمین فارسی کے محاسن — Page 138
اعتراضات کے جوابات حضرت اقدس نے اپنے فارسی کلام میں زیادہ تر ان اعتراضات کے جواب دیئے ہیں، جو اس زمانہ کے بد باطن مخالف اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر کرتے تھے۔چونکہ آپ کو ان سے بے پناہ محبت تھی۔اس لئے جب ان پر بیہودہ اعتراض کئے جاتے تو آپ کو بہت دکھ ہوتا تھا ،جو نہایت ہی پر درد اور بلیغ کلام کی صورت اختیار کر لیتا تھا۔آپ خود فرماتے ہیں : رهبر ماستید ما مصطفه است به آنکه ندیدست نظیرش سروش آنکه خدا مثل مرخش نافرید : آنکه رمش مخزن بر عقل و ہوش دشمن دیں حملہ برو می کند : حیف بود اگر بنشینم خوش چوں سمن سفه بگوشم رسید : در دل من، خاست چو محشر خروش چند تو انم کہ مشکیسے گنم : چند گند صبر، دل زیر نوش ے ترجمہ : - ہمارے رہبر اور آقا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جن کا ثانی فرشتوں نے بھی نہیں دیکھا۔ان جیسا چہرہ خدا نے اور کوئی پیدا نہیں کیا ، ان کا دین عقل و دانش کا حسنزانہ ہے دین کا دشمن ان پر حملہ کر رہا ہے ، مجھ پر افسوس اگر میں اب بھی خاموش بیٹھا رہوں۔جب اس کمینے کی بات میرے کان میں پڑی ، تو میرے دل میں شور قیامت برپا ہو گی۔میں کب تک صبر کر تا رہوں ، زہر پینے والا دل آخر کب تک صبر کر سکتا ہے۔