درثمین فارسی کے محاسن — Page 115
۱۱۵ ۴- عجب دارم از لطفت کے کردگار به پذیرفته چون من خاکسار پسندید گانے بجائے رسند : زما کهترانت چه آمد پسند چو از قطره خلق پیدا کنی ہے ہمیں عادت اینجا ہویدا د تجلیات الہیہ ص۲) تکیه بر زویر تو دارم گرچه من : ہمچو خاکم بلکہ زماں ہم کمتر ہے د در تمین من) -۵- بخاک ذلّت و لعن کسان رضا دادیم به بدین غرض که بر نیستی بقا باشد که د در ثمین ص۲۷ - خوئے عشاق مجز هست و نیاز به نشنیدیم عشق و کبر انباره - 4 دور تمین ) در کوئے دستانم چون مالک کو شب روز با دیگر نشان چه باشد اقبال و جاه ما را دور ثمین (۱۵) لے ترجمہ : میں تیری مہربانی پر اسے خداوند یران ہوں کہ مجھ جیسے عاجز انسان و تونے قبول کر لیا ہے۔پسندیدہ لوگ توکسی مرتبہ کو پہنچ سکتے ہیں، ہم جیسے فقیروں کی کونسی بات تجھے پسند آگئی۔چونکہ تو ایک قطرہ سے ایک دنیا پیدا کر لیتا ہے، تو یہاں بھی اسی عادت کا مظاہرہ کرتا ہے۔نے ترجمہ: میں تو تیری طاقت پر ہی بھروسہ رکھتا ہوں میں خود تو خاک کی طرح ہوں بلکہ اس سے بھی حقیر۔سے ترجمہ : ہم تو ذلت کی خاک اور لوگوں کی لعنتوں پر راضی ہو گئے ہیں۔اس لئے کہ نیستی کا پھل بقا ہوا کرتا ہے۔کا ترجمہ : عاشقوں کی عادت تو مجز ونیاز ہے ہم نے کبھی نہیں سنا کہ عشق اور تکبر ساتھ ساتھ ہوں۔کے ترجمہ میں تو دن رات مجبور کے کوچہ میں خاک کی طرح پڑا رہتا ہوں۔سے بڑھ کر ہم سے قبل اور تیر کی نشان اور کیا ہوسکتی ہے ؟