درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 116 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 116

114 جنسی نام و نگ عوت راز دامان ریختیم بے یار آمیزد مگر باما به خاک آمیختیم دول بدادیم از کف جاں در سے انداختیم : از پئے وصیل نگارے حیلہ ہا نگفتیم در ثمین ) ے ترجمہ: ہم نے نگ نام اور قوت کا سرمایہ اپنے دامن سے پھینک دیا ہے ،ہم اک میں مل گئے تا شاید عیوب ہم سے گھل مل جائے ہم نے دل ہاتھ سے دیدیا اور جان کسی کی رہ میں ڈال دی۔اس مجو کے جس کی خاطر ہم نے کیسے کیسے حیلے کئے ہیں ؟ - ^