درثمین فارسی کے محاسن — Page xi
و گئے۔اسی حالت میں مختصر بیماری کے بعد اپنی جان جان آفریں کے حوالے کی۔اناللہ و انا الیه راجعون۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اپنے فضلوں سے آپکی قربانیوں کو قبول فرمائے اور آپکے درجات بلند فرمائے۔آمین۔مرحوم کے انتقال کی خبر دیتے ہوئے روزنامہ الفضل ربوہ اپنی یکم جون 1981ء کے اشاعت میں لکھتا ہے: انتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ سابق ناظر صاحب بیت المال محترم میاں عبدالحق رامہ صاحب 14 مئی 1981ء کو شام 8 بجے بعمر 82 سال ربوہ میں انتقال کر گئے۔اناللہ و انا اليه راجعون۔اگلے روز 15 مئی کی صبح کو 10 بجے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر مولانا نذیر احمد مبشر نے نماز پڑھائی بعد ازاں بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔مرحوم 1955 تا 1973 بطور ناظر بیت المال، ناظر زراعت خدمات بجالاتے رہے۔آپ نے علمی میدان میں بھی جماعت کی خدمت کی۔سلسلہ کی بہت سی کتب کی پروف ریڈنگ کی آپ فارسی زبان کے مسلم الثبوت استاد تھے اور اس سلسلہ میں جماعت کی گراں قدر خدمات بجا لاتے رہے۔جامعہ احمدیہ کے کئی طلباء آپ کے پاس اکتساب فیض کرنے آتے رہے۔“ جناب عبد المنان مغنی صاحب ابنِ حضرت عبدالمغنی خان صاحب ناظر دعوت تبلیغ و وکیل تبشیر جنہیں ایک لمبی مدت تک میاں عبدالحق رامہ صاحب کے ساتھ نظارت بیت المال میں کام کرنے کا موقعہ ملا، لکھتے ہیں: جب رامہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت میں ڈوب کر درشین فارسی کے فنی محاسن کے بارے میں لکھنے کے لئے اپنا قلم اٹھایا تو یوں لگتا ہے جیسے روح القدس نے اس کی حرکت میں زور بھر دیا۔آپ کو کلام حضرت مسیح موعود سے بہت محبت تھی۔دفتر میں صبح آتے ہی نائب ناظران اور خاکسار کو درثمین فارسی کا درس دیتے۔اس کے بارے میں (VII)