درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page xii of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page xii

فرمایا کرتے تھے کہ آپ در مشین کے ہر شعر کو قرآن کی تفسیر کے طور پر ثابت کر سکتے ہیں اور اس بیان کی تائید میں اکثر اشعار کی تفسیر بیان کیا کرتے تھے۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نیاز کا شرف تو ضرور حاصل ہوا تھا مگر عمر کے لحاظ سے صحابی کہلانے کے زمرے میں نہیں آسکے۔دنیاوی گوناگوں مصروفیات کو ختم کر کے آپ 1954 ء میں ربوہ تشریف لے آئے اور اپنی خدا داد صلاحیتوں کو جماعت احمدیہ کی خدمت کیلئے وقف کر دیا اور تازندگی بھر پورانداز میں نبھایا۔آپ نے اپنی عمر عزیز کا ہر لمحہ خدمت دین کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ابتدا میں آپکو نظارت بیت المال کی خدمت سونپی گئی جس کو آپ نے اپنی محنت شاقہ سے دن دونی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائی، بعد ازاں انجمن میں ہی آپ کو اور شعبوں میں بھی خدمت کا موقعہ ملا۔انجمن اور دفتر کے معمولی سے معمولی کام اور اسکی نوعیت کبھی بھی آپکی نظروں سے اوجھل نہ ہوتی تھی۔چھوٹی سے چھوٹی جماعت کے چندوں کی تفصیلات سے باخبر رہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعلیٰ درجہ کی انتظامی قابلیت عطا فرمائی تھی۔ہر معاملہ کی تہ تک پہنچ کر صحیح اور مناسب حال فیصلہ فرماتے تھے۔اپنے کارکنان سے بہت ہی شفقت اور نرمی کا سلوک روا ر کھتے تھے۔آپ اردو، فارسی ، عربی اور انگلش کے عالم تھے اور ہندی اور گورکھی میں بھی خاصا درک تھا ان تمام زبانوں کی شاعری خصوصاً صوفیانہ شاعری پر ان کی گہری نظر تھی۔آپ عموما پنجابی میں گفتگو کرتے تھے۔آپکی ہر بات قول سدید پر بنی ہوتی تھی۔ہر بات بہت ہی دل نشین پیرایہ میں ہوتی تھی۔گفتگو میں بہت دھیما پن ہوتا تھا۔اگر کبھی کسی کی سرزنش کا موقع بھی آیا تو خلوص دل اور نرمی سے سمجھایا۔دنیوی مسائل کا ذکر تو کیا باریک باریک دینی مسائل پر بھی خوب عبور حاصل تھا۔جماعت کے بجٹ اور چندوں کے احتساب کے وقت بھی عہدیداروں سے دلکش گفتگو فرماتے اور کسی کے سخت جملوں کا بھی بہت نرمی سے جواب دیتے۔خوش طبع اور روشن ضمیر تھے۔(VIII)