درثمین فارسی کے محاسن — Page x
آخری عمر تک کئی میل روزانہ دریا تک تیز چل کر سیر کرنے جاتے تھے۔طبیعت میں بلا کی خودداری مکمل بے خوفی اور بے انتہا حوصلہ تھا۔انتہائی مضبوط اعصاب، غیر معمولی قوت ارادی اور خود اعتمادی کے مالک تھے۔کسی قسم کے حالات میں بھی طبیعت میں گھبراہٹ پیدا نہیں ہوتی تھی۔آپ کے چہرے پر ہر وقت ایک دلنواز مسکراہٹ کھیلتی رہتی تھی۔بڑی ہی دلکش انداز میں گفتگو کرتے تھے۔بہت سادگی پسند تھے اور کسی معاملے میں بھی دکھاوے اور بناوٹ کو پسند نہیں کرتے تھے۔کسی بھی کام کے کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کرتے تھے۔خدا تعالیٰ کی ذات پر مکمل یقین اور بھروسہ تھا۔اور زندگی وقف کرنے کے بعد اپنا معاملہ اسطرح ذات باری حق پر چھوڑ دیا تھا کہ نہ کسی تکلیف یا نقصان کی فکر تھی اور نہ ہی کسی صلے یا تعریف کی پرواہ تھی۔کسی اصول یا حق کی بات سے پیچھے نہ ہٹتے تھے۔جھوٹ اور غلط بیانی سے سخت نفرت تھی اور اسے بزدلی اور ایمان کی کمزوری خیال کرتے تھے۔زندگی کے آخری سانسوں تک خدائی کاموں میں مصروف رہے۔انجمن سے ریٹائر ہونے کے بعد مولا نا ابو میر نور الحق کے زیر نگرانی الشرکت الاسلامیہ سے چھپنے والی جماعت کی کتب کی نظر ثانی آپکے ذمہ تھی۔چنانچہ اس زمانے میں چھپنے والے براہین احمدیہ کے نئے ایڈیشن پر آپنے بڑی محنت اور عرق ریزی سے کئی سال تک کام کیا۔مئی 1981ء میں جب آخری بیماری کا حملہ ہوا ، اس دن صبح کو ایک جماعتی مسودہ کی نظر ثانی مکمل کر کے اور مولانا ابوالمنیر نور الحق کے گھر دے کرواپس آئے تھے۔لباس تبدیل کر کے میز پر کوئی اور کام شروع کرنے کے لئے بیٹھے ہی تھے کہ طبیعت خراب ہونے لگی۔پہلے تو اس ارادے سے اسی وقت اٹھ کر تیار ہونے لگے کہ ابھی سیر کر کے آتا ہوں اس سے طبیعت ٹھیک ہو جائے گی۔پھر شائد اندازہ ہوا کہ معاملہ انکی قوت ارادی سے آگے نکل چکا ہے اور آخری گھڑی آن پہنچی ہے۔چنانچہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ کر بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی۔تلاوت کے دوران ہی فالج کا شدید حملہ ہوا اور خاموش ہو (VI)